شمائل ترمذی کی کھڑے ہو کر پانی پینے کے بارے میں احادیث

شمائل ترمذی کی حدیث: 205

حدثنا أحمد بن منیع: أنا ھشیم: أنا عاصم الأحول [و مغیرۃ] عن الشعبي عن ابن عباس رضی اللہ عنھما: أن النبي ﷺ شرب من زمزم وھو قائم۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے کھڑے ہو کر زمزم ( کا پانی) پیا۔

تحقیق و تخریج:    سندہ صحیح

صحیح بخاری:1637، صحیح مسلم:2027، سنن ترمذی:1882

شرح و فوائد:

1. زمزم کا پانی (زمزم کے کنویں کے پاس) کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔

2. ہمارے ممالک (بلادِ عجم) میں بعض لوگ جب جزیرۃ العرب سے زمزم لاتے ہیں تو کچھ لوگ اسے کھڑے ہو کر اور قبلے کی طرف رخ کر کے پیتے ہیں، لیکن اس کا کوئی ثبوت مجھے معلوم نہیں ہے۔

3. کھڑے ہو کر پینے سے ممانعت والی روایت زمزم اور مخصوص مواقع کے علاوہ اور وعیدپر محمول ہیں۔

4. بعض دوسرے مقامات پر بھی کھڑے ہو کر پینے کا ثبوت ہے، مثلاً وضو کا پانی اور مشک کا پانی وغیرہ۔

شمائل ترمذی کی حدیث: 206

حدثنا قتیبۃ:أنا محمد بن جعفر عن حسین المعلم عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ رضی اللہ عنہ قال: رأیت النبي ﷺ یشرب قائمًا و قاعدًا۔

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہو کر اور بیٹھے ہوئے (دونوں حالتوں میں) پیتے ہوئے دیکھا۔

تحقیق و تخریج: سندہ حسن

سنن ترمذی (1883، وقال:حسن صحیح) مسند احمد (2 / 215)

جزء الالف دینار لاحمد بن جعفر بن حمدان القطیعی (144)

شمائل ترمذی کی حدیث: 207

حدثنا علي بن حجر:أنا ابن المبارک عن عاصم الأحول عن الشعبي عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال:سقیت النبي ﷺ من زمزم فشرب وھو قائم۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو زمزم میں سے پلایا اور آپ نے نوش فرمایا جبکہ آپ کھڑے تھے۔

تحقیق و تخریج: سندہ صحیح

شمائل ترمذی کی حدیث: 208

حدثنا أبو کریب محمد بن العلاء و محمد بن طریف الکوفي قالا: أنا ابن الفضیل عن الأعمش عن عبد الملک بن میسرۃ عن النزال بن سبرۃ قال: أي علي رضی اللہ عنہ بکوز من ماء وھو فی الرحبۃ فأخذ منہ کفًا فغسل یدیہ و مضمض و استنشق و مسح وجھہ و ذراعیہ و رأسہ ثم شرب وھو قائم ثم قال: ھذا وضوء من لم یحدث ھکذا رأیت رسول اللہ ﷺ فعل۔

نَزال بن سبرہ (رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس پانی کا ایک کوزہ لایا گیا اور آپ رحبہ (نامی ایک مقام) میں تھے، پھر آپ نے ایک چلو پانی لیا تو دونوں ہاتھ دھوئے، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، چہرہ تر کیا اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک ترکئے اور سر کا مسح کیا، پھر اس سے کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے جس کا وضو ٹوٹا نہیں (یعنی جو شخص وضو پر وضو کرنا چاہتا ہے) میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

تحقیق و تخریج: سندہ صحیح

صحیح بخاری (5615 – 5616)

شرح و فوائد:

1. وضو کرنے کے بعد وضو کے برتن میں سے بچا ہوا پانی پینا جائز ہے۔

2. کھڑے ہو کر پانی پینا منسوخ نہیں بلکہ جائز ہے۔ نیز دیکھئے حدیث سابق : 206

3. صحابہ کرام علانیہ سنت یعنی حدیث کی تعلیم دیتے تھے۔

4. وضو پر وضو ہو تو اچھی طرح دھونے کے بجائے اعضائے وضو کو تر کر دینا بھی جائز ہے۔

5. اعضائے وضو ایک ایک دفعہ دھونا بھی جائز ہے، جبکہ تین تین دفعہ دھونا بہتر ہے، جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 205 سے لے کر 208 تک۔

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

Advertisements

ألا کل شيء ما خلا اللہ باطل

ثنا محمد بن بشار: ثنا عبد الرحمن ابن مھدي: ثنا سفیان الثوري عن عبدالملک بن عمیر: ثنا أبو سلمۃ عن أبي ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ:

﴿إن أصدق کلمۃ قالھا الشاعر کلمۃ لبید: ألا کل شيء ما خلا اللہ باطل۔ و کاد أمیۃ بن أبي الصلت أن یسلم۔﴾

ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید کا قول ہے:

’’خبر دار سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔‘‘

اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت مسلمان ہو جاتا۔

شمائل ترمذی:241، صحیح بخاری:6489، صحیح مسلم:2256، سنن ترمذی:2849

شرح و فوائد:

1. لبید شاعر کے مذکورہ کلام کے دو معنی ہو سکتے ہیں:

اول: اللہ کے سوا ہر چیز کی عبادت باطل ہے۔

دوم: اللہ کے سوا ہر شے آخر فنا ہونے والی ہے اور یہی معنی یہاں راجح ہے۔

2. رسول اللہ ﷺکو اللہ نے اگرچہ اشعار نہیں سکھائے، جیسا کہ سورۃ یاسین کی آیت نمبر 69 سے ثابت ہے، لیکن آپ بعض اوقات کسی شعر کا ایک حصہ یا مقفیٰ و مسجیٰ کلام بھی بیان فرما دیتے تھے جو کہ اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ آپ شاعر نہیں تھے۔

3. عہدِ جاہلیت کے مشہور شاعر اور معلقات سبعہ (سات قصیدوں) میں سے ایک کے مصنف لبید بن ربیعہ بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ رضی اللہ عنہ

ان کے شعر مذکور کا بقیہ مصرعہ درج ذیل ہے:

و کُلُّ نَعِیْمٍ لا مَحالۃَ زائِل

اور ہر نعمت ضرور بالضرور ختم ہونے والی ہے۔

4. امیہ بن ابی الصلت بھی عہدِ جاہلیت کا مشہور شاعر تھا مگر اسلام و ایمان سے محروم رہا اور حالتِ کفر میں ہی مر گیا۔

شمائل ترمذی کی حدیث: 248

حدثنا علي بن حجر: أنا شریک عن عبد الملک بن عمیر عن أبي سلمۃ عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبيﷺ قال:

﴿أشعر کلمۃ تکلمت بھا العرب کلمۃ لبیدٍ: ألا کل شيءٍ ما خلا اللہ باطل۔﴾

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: عربوں میں سے شعریت کا سب سے زیادہ حامل مصرع لبید (بن ربیعہ) کا یہ مصرع ہے: خبردار سُن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔

تحقیق و تخریج: صحیح

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 241

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

مومن ہر حال میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کر رہا ہوتا ہے

حدثنا محمود بن غیلان : أنا أبو أحمد: أنا سفیان عن عطاء بن السائب عن عکرمۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، قال : أخذ النبيﷺ ابنۃ لہ تقضي فاحتضنھا فوضعھا بین یدیہ فماتت و ھي بین یدیہ و صاحت أم أیمن رضی اللہ عنہا، فقال [یعني النبيﷺ]:((أتبکین عند رسول اللّٰہ ﷺ؟)) فقالت: ألست أراک تبکي؟ قال: ((إني لست أبکي، إنما ھي رحمۃ، إن المؤمن بکل خیرٍ علی کل حالٍ، إن نفسہ تنزع من بین جنبیہ وھو یحمد اللہ تعالی ۔))

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی بیٹی (غالباً نواسی) کو پکڑکرگود میں ڈال لیا، وہ نزع کے عالم میں تھیں، پھر آپ نے اسے اپنے سامنے رکھ لیا تو وہ آپ کے سامنے فوت ہو گئیں اور ام ایمن رضی اللہ عنہا نے چیخ کر رونا شروع کر دیا تو آپ نے فرمایا: تم رسول اللہ ﷺکے سامنے رو رہی ہو؟اس نے کہا: کیا آپ بھی رو نہیں رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں (چیخ کر) رو نہیں رہا، یہ (آنسو) تو رحمت ہے، مومن ہر حال میں بہتر رہتا ہے، اس کی روح اس کے پہلو سے کھینچی جا رہی ہوتی ہے اور وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کر رہا ہوتا ہے۔

تحقیق و تخریج: حسن

شمائل ترمذی: 324 وسندہ حسن، سنن نسائی: 1844

شرح و فوائد:

1. کسی کی وفات اور مصیبت پر چیخ کر رونا منع ہے، آنسو ؤں پر مؤاخذہ نہیں، کیونکہ ان پر اختیار نہیں، نیز یہ رحمدلی کی علامت ہیں۔

2. رسول اللہ ﷺ مشکل کشا اور مختارِ کل نہیں ہیں۔

3. اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے محبت کرنا فطرتِ انسانی میں داخل ہے۔

4. مصیبت ہو یا خوشی، مومن ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہی بیان کرتا ہے۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 324

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

پس کہو: آپ ﷺ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں

[ثنا أحمد بن منیع] و سعید بن عبد الرحمن المخزومي وغیر واحد، قالوا: ثنا سفیان [بن عیینۃ عن الزھري] عن عبید اللہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ [قال، قال رسول اللہ ﷺ:] ((لا تطروني کما أطرت النصاری [عیسی] ابن مریم، إنما أنا عبد[اللہ] فقولوا: [عبداللہ و رسولہ]))

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جس طرح نصرانیوں نے عیسی بن مریم (علیہما السلام) کے بارے میں غلو کیا تو تم میرے بارے میں ایسا غلو نہ کرو، میں تو اللہ کا بندہ ہوں، پس کہو: (آپ) اللہ کے بندے اور اُس کے رسول (ہیں)۔

صحیح بخاری:3445، شمائل ترمذی: 329

تحقیق وتخریج: صحیح

شرح و فوائد:

1. دین میں غلو کرنا اور رسول اللہ ﷺ کی شان بڑھانے کے لئے غیر شرعی تجاوز، مبالغہ اور زیادتی کرنا جائز نہیں ہے اور اسی طرح آپ ﷺکی شان گھٹانا بھی حرام اور کفر ہے۔

2. رسول اللہ ﷺ مخلوق میں سب سے اعلیٰ ہونے کی باوجود سب سے زیادہ عاجزی اور تواضع فرماتے تھے اور ہمارے لئے آپ کی سیرت مبارکہ میں اسوۂ حسنہ ہے۔

3. بعض لوگ نبی کریم ﷺ کی شان میں غلو کرتے ہوئے آپ کو مشکل کشا، حاجت روا، مختارِ کل اور کل ما کان و ما یکون کا علم غیب جاننے والا کہتے ہیں اور یہ تمام امور مذکورہ حدیث و دیگر دلائل کی رُو سے ممنوع و حرام ہیں۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 329

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

حسب استطاعت ایک دوسرے سے معروف میں ہر ممکن تعاون کرنا چاہئے

[حدثنا] علي بن حجر: ثنا سوید ابن عبد العزیز عن حمید عن أنس رضی اللہ عنہ: [أن امرأۃ جاء ت إلی النبيﷺ] فقالت: إن لي إلیک حاجۃ، فقال: ((اجلسي في أي طرق المدینۃ [شئت أجلس إلیک] ))

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے پاس ایک عورت آئی تو کہا: مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مدینے کے جس راستے میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں (تمھاری بات سننے کے لئے) تمھارے پاس بیٹھ جاؤں گا۔

شمائل ترمذی: 330، سنن ابی داود :4818 نحو المعنیٰ مطولاً و سندہ صحیح

تحقیق و تخریج: صحیح

شرح و فوائد:

1. رسول اللہ ﷺ عام مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے اور کاش کہ صحیح العقیدہ مسلمان حکمرانوں میں بھی ایسی صفات ہوتیں۔!

2. حسب استطاعت ایک دوسرے سے معروف میں ہر ممکن تعاون کرنا چاہئے۔

3. حدیث میں مذکورہ عورت انصاری تھی، لیکن اس کا نام معلوم نہیں ہے۔ رضی اللہ عنہا

4. شبہات والے اُمور سے بہت دور رہنا چاہئے اور اس بات کا پورا خیال رکھنا چاہئے کہ لوگوں کے دلوں میں کسی قسم کا شک و شبہ پیدا نہ ہو۔

5. اجنبیہ عورت کے ساتھ تنہائی میں ملاقات جائز نہیں ہے۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 330

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

کسی کے احترام میں قیام کی طرح کھڑے ہو جانا

حدثنا عبد اللہ بن عبد الرحمن: أنا عفان: أنا حماد بن سلمۃ عن حمید عن أنس رضی اللہ عنہ قال: لم یکن شخص أحب إلیھم من رسول اللہ ﷺ قال: وکانوا إذا رأوہ لم یقوموا لما یعلمون من کراھتہ لذلک ۔

انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کوئی بھی محبوب نہیں تھا۔

(انس رضی اللہ عنہ نے) فرمایا : جب صحابہ آپ کو دیکھتے تو آپ کے لئے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں۔

تحقیق وتخریج: سندہ صحیح

شمائل ترمذی: 334، سنن ترمذی: 2754 وقال :’’حسن صحیح‘‘ ، مسند احمد: 3 /250

شرح و فوائد:

1. کسی کے لئے قیام کرنے کی دو حالتیں ہیں:

اول: کسی کے احترام میں قیام کی طرح کھڑے ہو جانا، جیسا کہ بعض سکولوں اور نام نہاد پیر خانوں میں ہوتا ہے۔

اس حدیث میں مذکورہ قیام سے یہی قیام مراد ہے اور ایسا قیام کرنا حرام ہے۔

دوم: کسی مریض یا زخمی کو کسی چیز سے اتارنے، مہمان کے استقبال کے لئے اور آنے والے کو سلام، مصافحہ یا معانقہ کرنے کے لئے قیام کرنا۔

یہ قیام جائز ہے جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے۔

2. صحابۂ کرام اتباعِ سنت میں سب سے مقدم تھے۔

رسول اللہ ﷺ کی محبت آپ کی اتباع میں ہے، نہ کہ غیر شرعی اُمور سر انجام دینے میں۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 334

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

لوگوں میں بدترین انسان کون؟ بدزبان شخص

حدثنا ابن أبي عمر:أنا سفیان عن محمد بن المنکدر عن عروۃ عن عائشۃرضی اللہ عنہا، قالت: استأذن رجل علی رسول اللہﷺ و أنا عندہ فقال: ((بئس ابن العشیرۃ أو أخو العشیرۃ۔)) ثم أذن لہ قلما دخل فألان لہ القول، فلما خرج قلت: یا رسول اللہ! قلت ما قلت ثم ألنت لہ القول؟ فقال :((یا عائشۃ ! إن من شر الناس من ترکہ الناس أو ودعہ الناس إتقاء فحشہ۔))

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھی جب ایک آدمی نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا:  ’’یہ اپنے خاندان کا بُرا آدمی ہے‘‘۔

پھر آپ نے اسے آنے کی اجازت دے دی، جب وہ آیا تو آپ نے (سختی کے بجائے) نرمی سے گفتگو کی، پھر جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا:

یا رسول اللہ! (ﷺ)آپ نے پہلے وہ بات فرمائی ،پھر اس شخص کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی؟

تو آپ(ﷺ) نے فرمایا:

اے عائشہ! لوگوں میں بد ترین انسان وہ ہے جس کی بد زبانی کی وجہ سے لوگ ’’اسے چھوڑ دیں‘‘یا فرمایا ’’(لوگ)اس سے دور رہیں‘‘۔

شمائل ترمذی:349 وسندہ صحیح،سنن ترمذی: 1996 وقال: ’’صحیح‘‘۔

صحیح البخاري: 6054، صحیح مسلم: 2591

شرح و فوائد:

1. مجروح راویوں پر اہلِ علم کا جرح کرنا صحیح اور جائز ہے۔

2. چونکہ وہ نامعلوم شخص بد اخلاق اور گستاخ قسم کا تھا، لہٰذا رسول اللہ ﷺنے اس کے ساتھ اس وجہ سے نرمی فرمائی کہ کہیں یہ شخص بد اخلاقی اور گستاخی کا ارتکاب نہ کر بیٹھے، دربارِ نبوی کی توہین نہ کر بیٹھے اور یہ ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کی توہین کرنا کفر ہے۔

لہٰذا آپ ﷺ نے نرمی کرتے ہوئے اس شخص کو کفر اور گناہ سے بچا لیا، بے شک آپ رحمۃ للعالمین ہیں۔ﷺ

3. اگر کوئی شرعی عذر ہو تو پیٹھ پیچھے بُرا کہنا جائز ہے۔

4. شریر اشخاص کی عدم موجودگی میں لوگوں کو اُن کے شر سے آگاہ کرنا جائز ہے، تاکہ لوگ ان شر سے محفوظ رہیں۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 349

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ