جسے اللہ دے اُسے روکنے والا کوئی نہیں

(سیدنا) معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہ) نے (مدینہ میں) منبر پر فرمایا:

اے لوگو! جسے اللہ دے اُسے روکنے والا کوئی نہیں اور جس سے اللہ روک لے، اسے دینے والا کوئی نہیں اور کسی بزرگی والے کی بزرگی اسے نفع نہیں دیتی۔ جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا تفقہ (سوجھ بوجھ) عطا فرماتاہے۔

پھر انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس منبر پر یہ کلمات سنے ہیں۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۵۲۱، وأخرجہ البخاری فی الادب المفرد (۶۶۶) من حدیث مالک بہ.

اگر اللہ تعالیٰ کی رحمتِ خاص شامل نہ ہوئی تو کسی بزرگ کو اس کی بزرگی قطعاً فائدہ نہیں دے گی۔

fbshare

Advertisements

بیماری پر صبر کرنے سے گناہوں کا کفارہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مومن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے چاہے ایک کانٹا ہی ہو وہ تو اس کی خطاؤں کا قصاص یا کفارہ بن جاتی ہے۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۵۲۰، وأخرجہ مسلم (۵۰/ ۲۵۷۲) من حدیث مالک بہ.

مصیبتوں اور بیماریوں پرصبر کرنے سے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے یعنی گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

بیماری کے ساتھ اجر نہیں لکھا جاتا…. لیکن وہ گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے۔ (التمہید ۲۳/ ۲۶ وسندہ صحیح)

fbshare

 

صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہئے

عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّھَا قَالَتْ: إِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ لَیُصَلِّی الصُّبْحَ فَیَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِھِنَّ مَا یُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ۔

نبی ﷺ کی بیوی (سیدہ) عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز (اس قدر اندھیرے میں) پڑھتے کہ پھر عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی واپس ہوتیں تو اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۹۴، وأخرجہ البخاری (۸۶۷) ومسلم (۶۴۵) من حدیث مالک بہ.

صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہئے۔

عورتوں کے لئے چادر اوڑھنا ضروری ہے۔

ہر عورت کو چاہئے کہ وہ مردوں سے پردہ کرے۔

عورتوں کا مساجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے۔

Salafiyyah Heya Ahlulsunnah translated this post into English:

Narrated by sayyadah `Aisha radhiAllahu anha: When Allah’s Messenger (صلى الله عليه وسلم) finished the Fajr prayer, the women would leave covered in their sheets and were not recognized owing to the darkness.

(Sahih Bukhari, hadith number: 867)

1. The fajr prayer must be prayed, so early, that its dark.

2. For women covering sheets (chadar) is necessary.

3. Every woman must hide herself from men (non-mahram).

4. For women, going to masjid for praying is permissible.

fbshare

اللہ کہاں ہے؟ اللہ اپنے عرش پر ہے کما یلیق بجلالہ

رسول اللہ ﷺ نے لونڈی سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟

اس نے کہا: آسمان پر ہے۔

آپ ﷺ نے پوچھا: میں کون ہوں؟

اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۸۵، وأخرجہ النسائی فی الکبریٰ ( ۴/ ۴۱۸ ح ۷۷۵۶) من حدیث مالک بہ. ورواہ مسلم (۵۳۷) من حدیث ہلال بہ وقال: ’’معاویۃ بن الحکم‘‘ وھو الصواب.

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔ کما یلیق بجلالہ

یہ سوال کرنا کہ ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ بالکل صحیح اور سنت ہے بلکہ ایمان کی کسوٹی ہے۔ یاد رہے کہ اس سوال کے جواب میں یہ کہنا کہ ’’اللہ ہر جگہ بذاتہ موجود ہے‘‘ غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سات آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔ کما یلیق بجلالہ وشأنہ

اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کے مزید دلائل کے لئے دیکھئے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ’’علمی مقالات‘‘ (ج۱ص ۱۳)

Salafiyyah Heya Ahlulsunnah translated this post into English:

He (prophet salAllahu alayhe wa sallam) said to her: Where is Allah? She said: He is in the heaven. He said: Who am I? She said: Thou art the Messenger of Allah. He said: Grant her freedom, she is a believing woman.

(Sahih Muslim, hadith number: 537)

This also shows that believing that Allaah is above the arsh (the way it suits to His majesty) then this person male or female; is one of a sign for a believing person, ma sha Allaah.
fbshare

جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے

یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ ! وَاللہ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلاً وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا

(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا پھر کھڑے ہوئے، لمبا قیام کیا اور یہ پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔ پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سجدہ کیا پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ جب سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا، لوگوں کو خطبہ دیا۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا:

سورج اورچاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے انھیں گرہن نہیں لگتا۔

اگر تم یہ نشانیاں دیکھو تو اللہ سے دعا مانگو، تکبیر کہو اور صدقہ کرو۔

پھر فرمایا: اے محمد (ﷺ) کی اُمت! اگر اللہ کا کوئی بندہ یا بندی زنا کرے تو اس پر اللہ کو سب سے زیادہ غیرت آتی ہے۔

اے محمد(ﷺ) کی اُمت ! اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۵۹، وأخرجہ البخاری (۱۰۴۴) ومسلم (۹۰۱)

نماز خسوف (گرہن والی نماز) باجماعت پڑھنی چاہئے۔

نمازِ خسوف میں دو رکعتیں ہوتی ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہوتے ہیں۔

نمازِ خسوف کے بعد خطبہ دینا اور اس میں وعظ و تذکیر مسنون ہے۔

سورج یاچاند کو گرہن لگنا کسی کے پیدا ہونے یا مرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ قوانینِ قدرت کے ماتحت ہے۔مظاہر قدرت خواہ معمول کے واقعات ہوں ، ان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے اور خوابِ غفلت سے بیدار ہونا چاہئے۔

مصیبت کے وقت دعائیں کرنے، تکبیریں کہنے اور صدقہ کرنے سے نہ صرف اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ مصائب و آلام دور کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔

بہت سی مصیبتیں لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں۔

فضولیات اور بے فائدہ باتوں سے ہر وقت پرہیز کرنا چاہئے۔

فکرِ آخرت اور ذکرِ موت سے ہنسی مذاق ختم اور اُخروی کامیابی کا حصول مقصدِ حیات بن جاتا ہے۔

زنا کبیرہ گناہ ہے۔

اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے اور اسے اپنے بندوں کی بدکاری پر غیرت آتی ہے۔ نیز دیکھئے موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم کی حدیث: ۱۷۱

fbshare

 

نبی کریم ﷺ پر وحی کیسے آتی تھی؟

أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ ھِشَامٍ سَأَلَ رَسُوْلَ اللہ ﷺ فَقَالَ:

یَا رَسُوْلَ اللہ! کَیْفَ یَأْتِیْکَ الْوَحْيُ؟

ام المومنین (سیدہ) عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ (سیدنا) حارث بن ہشام (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بعض اوقات گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور یہ مجھ پر سخت ہوتی ہے پھر یہ ختم ہوتی ہے تومیں اسے یاد کر چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ ایک آدمی کی شکل میں آکر مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں وہ یاد کر لیتا ہوں جو وہ بیان کرتا ہے۔

عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: میں نے سخت ٹھنڈے دن میں آپ پر وحی کا نزول دیکھا ہے پھر جب یہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ پھوٹ رہا ہوتا تھا۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۵۸، وأخرجہ البخاری(۲) من حدیث مالک بہ.

وحی کی کئی قسمیں ہیں مثلاً: براہِ راست کلام، پردے کے پیچھے سے کلام یا فرشتے کے ذریعے سے۔ مثلاً دیکھئے سورۃ الشوریٰ (۵۱) اور التمہید (۲۲/ ۱۱۳)

حدیث بالا میں وحی کی بعض اقسام مذکور ہیں۔نبی کا خواب بھی وحی میں سے ہے جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا خواب کی وجہ سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے ارادے سے ثابت ہے ۔

بعض اوقات رسول اللہ ﷺ پر وحی کے نزول سے بھاری کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔

پاک ہے وہ ذات جس نے مکہ میں اپنا سچا رسول اور آخری نبی بھیجا، جس پر رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم و منقطع ہے۔

مسئلہ معلوم نہ ہو تو عالم سے پوچھ لینا چاہئے۔

فرشتے انسانی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

fbshare

 

نبی کریم ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا؟

کَانَ أَحَبُّ العَمَلِ إِلٰی رَسُوْلِ اللہ ﷺ الَّذِيْ یَدُوْمُ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ

(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا تھا جس پرعمل کرنے والا مداومت (ہمیشگی) کرے۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۵۷، وأخرجہ البخاری( ۶۴۶۲) من حدیث مالک بہ.

کوشش کر کے نیکی کے ہر کام میں ہمیشگی اور دوام اختیار کرنا چاہئے۔

بعض اوقات کسی مباح و مستحب کام کو چھوڑ دینا بھی جائز ہے ۔ دیکھئے الموطأ روایۃ ابن القاسم کی حدیث: ۴۲۴

fbshare