نیکی کے کسی کام کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہئے

بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِيْ بِطَرِیْقٍ إِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِیْقِ

فَأَخَّرَہُ فَشَکَرَ اللہ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ایک آدمی ایک راستے پر چل رہا تھا کہ اس نے راستے پر کانٹوں والی ٹہنی دیکھی تو اسے راستے سے ہٹا دیا۔ اللہ نے اس کی قدر دانی کی اور اسے بخش دیا۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۳۳، وأخرجہ البخاری (۶۵۲۔ ۶۵۴) ومسلم (۱۹۱۴، ۴۳۷) من حدیث مالک بہ ببعض الاختلاف

راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو دور کرنا تاکہ لوگ ہر قسم کی ایذا سے محفوظ رہیں، ایسا عمل ہے جو جنت میں داخلے کا سبب ہے۔

نیکی کے کاموں سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

نیکی کے کسی کام کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہئے۔