سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے

السَّفَرُ قِطْعَۃٌ مِنَ الْعَذَابِ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ آدمی کو اس کی نیند ، کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے پس جو شخص (سفر سے) اپنا مقصد پورا کر لے تو اسے چاہئے کہ جلدی گھر واپس لوٹ آئے۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۳۵، وأخرجہ البخاری (۱۸۰۴) ومسلم (۱۹۲۷)

نیند، خورد و نوش اور آرام و سکون اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں اور جسے یہ چیزیں میسر ہیں اس پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔

عام طور پر سفر میں کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لئے اسے عذاب کا ٹکڑا قرار دیا گیا ہے۔

تکلیفوں پر صبر کرنا اہلِ ایمان کا طرزِ عمل ہوتاہے۔

بعض(ضعیف) روایتوں میں آیا ہے کہ  ’’سافروا تصحوا‘‘ سفر کرو تم صحیح ہو جاؤ گے۔ مثلاً دیکھئے التمہید (۲۲/۳۷)

fbshare