اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ماخلق

أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

اسلم ( قبیلے ) کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ ایک رات میں سونہ سکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کس وجہ سے؟ ا س نے کہا: مجھے بچھو نے کاٹا تھا ۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم شام کے وقت  ﴿أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾  میں اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس کے شر سے جو اُس نے پیدا کیا۔ پڑھتے تو ان شاء اللہ تجھے کوئی نقصان نہ ہوتا۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۴۴، وأخرجہ احمد (۲/ ۳۷۵) والبخاری فی خلق افعال العباد (۵۸) والنسائی (السنن الکبریٰ : ۱۰۴۲۵ ،عمل الیوم واللیلۃ : ۵۸۹) من حدیث مالک بہ ورواہ مسلم (۵۵/ ۲۷۰۹) من حدیث ابی صالح بہ نحو المعنیٰ

صبح و شام کے اذکار میں   ﴿أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾  کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہ پڑھنے سے اللہ تعالیٰ فتنوں اور مصیبتوں اور خاص طور پر ڈنگ مارنے والی اشیاء کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ ان شاء اللہ

اپنے آپ کو کثرت سے مسنون اذکار میں مصروف رکھنا چاہئے۔

صرف اللہ ہی مشکل کشا ہے۔

قرآن و حدیث پر عمل کرنے میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔

fbshare