مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے

إِنَّ الْمُؤْمِنَ یَشْرَ بُ فِيْ مِعیً وَاحِدٍ وَالْکَافِرُ یَشْرَبُ فِيْ سَبْعَۃِ أَمْعَاءٍ

’’مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے‘‘

(سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کافر کی میزبانی کی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، ایک بکری کا دودھ دوھا گیا تو اس (کافر) نے (سارا) دودھ پی لیا پھر دوسری کو دوھا گیا تو اس نے (سارا) پی لیا پھر تیسری کو دوھا گیا تو اس نے پی لیا۔ حتی کہ سات بکریوں کا دودھ اس نے پی لیا پھر جب صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہو گیا پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو ایک بکری کا دودھ نکالا گیا تو اس نے پی لیا پھر دوسری کا دودھ لایا گیا تو وہ پی نہ سکا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۴۵، وأخرجہ مسلم ( ۲۰۶۳) من حدیث مالک بہ.

اسلام کافروں کے ساتھ بھی اچھے سلوک کا حکم دیتا ہے۔

اسلام کی دعوت دینے کے لئے کفار و مبتدعین کے ساتھ صحیح العقیدہ مسلمانوں کا تعلقات قائم کرنا پسندیدہ کام ہے۔

کافروں کا مطمح نظر دنیاوی زندگی، کھانا پینا اور مسلمانوں کو لُوٹنا مارنا ہے۔

کافر کی دعوت کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے کوئی شرعی یا جائز فائدہ حاصل ہو۔

fbshare