نبی کریم ﷺ پر وحی کیسے آتی تھی؟

أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ ھِشَامٍ سَأَلَ رَسُوْلَ اللہ ﷺ فَقَالَ:

یَا رَسُوْلَ اللہ! کَیْفَ یَأْتِیْکَ الْوَحْيُ؟

ام المومنین (سیدہ) عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ (سیدنا) حارث بن ہشام (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بعض اوقات گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور یہ مجھ پر سخت ہوتی ہے پھر یہ ختم ہوتی ہے تومیں اسے یاد کر چکا ہوتا ہوں اور بعض اوقات فرشتہ ایک آدمی کی شکل میں آکر مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں وہ یاد کر لیتا ہوں جو وہ بیان کرتا ہے۔

عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: میں نے سخت ٹھنڈے دن میں آپ پر وحی کا نزول دیکھا ہے پھر جب یہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ پھوٹ رہا ہوتا تھا۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۵۸، وأخرجہ البخاری(۲) من حدیث مالک بہ.

وحی کی کئی قسمیں ہیں مثلاً: براہِ راست کلام، پردے کے پیچھے سے کلام یا فرشتے کے ذریعے سے۔ مثلاً دیکھئے سورۃ الشوریٰ (۵۱) اور التمہید (۲۲/ ۱۱۳)

حدیث بالا میں وحی کی بعض اقسام مذکور ہیں۔نبی کا خواب بھی وحی میں سے ہے جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا خواب کی وجہ سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے ارادے سے ثابت ہے ۔

بعض اوقات رسول اللہ ﷺ پر وحی کے نزول سے بھاری کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔

پاک ہے وہ ذات جس نے مکہ میں اپنا سچا رسول اور آخری نبی بھیجا، جس پر رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم و منقطع ہے۔

مسئلہ معلوم نہ ہو تو عالم سے پوچھ لینا چاہئے۔

فرشتے انسانی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

fbshare