جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے

یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ ! وَاللہ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلاً وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا

(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا پھر کھڑے ہوئے، لمبا قیام کیا اور یہ پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔ پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سجدہ کیا پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ جب سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا، لوگوں کو خطبہ دیا۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا:

سورج اورچاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے انھیں گرہن نہیں لگتا۔

اگر تم یہ نشانیاں دیکھو تو اللہ سے دعا مانگو، تکبیر کہو اور صدقہ کرو۔

پھر فرمایا: اے محمد (ﷺ) کی اُمت! اگر اللہ کا کوئی بندہ یا بندی زنا کرے تو اس پر اللہ کو سب سے زیادہ غیرت آتی ہے۔

اے محمد(ﷺ) کی اُمت ! اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے۔

الموطأ روایۃ ابن القاسم: ۴۵۹، وأخرجہ البخاری (۱۰۴۴) ومسلم (۹۰۱)

نماز خسوف (گرہن والی نماز) باجماعت پڑھنی چاہئے۔

نمازِ خسوف میں دو رکعتیں ہوتی ہیں اور ہر رکعت میں دو رکوع ہوتے ہیں۔

نمازِ خسوف کے بعد خطبہ دینا اور اس میں وعظ و تذکیر مسنون ہے۔

سورج یاچاند کو گرہن لگنا کسی کے پیدا ہونے یا مرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ قوانینِ قدرت کے ماتحت ہے۔مظاہر قدرت خواہ معمول کے واقعات ہوں ، ان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے اور خوابِ غفلت سے بیدار ہونا چاہئے۔

مصیبت کے وقت دعائیں کرنے، تکبیریں کہنے اور صدقہ کرنے سے نہ صرف اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ مصائب و آلام دور کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔

بہت سی مصیبتیں لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں۔

فضولیات اور بے فائدہ باتوں سے ہر وقت پرہیز کرنا چاہئے۔

فکرِ آخرت اور ذکرِ موت سے ہنسی مذاق ختم اور اُخروی کامیابی کا حصول مقصدِ حیات بن جاتا ہے۔

زنا کبیرہ گناہ ہے۔

اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے اور اسے اپنے بندوں کی بدکاری پر غیرت آتی ہے۔ نیز دیکھئے موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم کی حدیث: ۱۷۱

fbshare