دین و دنیا میں سختی سے اجتناب کر کے آسانی والا راستہ اختیار کرنا چاہئے

سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے (اپنے شاگردوں سے) پوچھا:

کیا میں تمھیں ایسی بات نہ بتاؤں جو بہت سی نمازوں اور صدقے سے بہتر ہے؟

شاگردوں نے کہا: جی ہاں!

انھوں نے فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان صلح کرا دینا اور بغض و عداوت سے بچو کیونکہ یہ (نیکیوں کو) مونڈ (کرختم کر) دیتا ہے۔

(موطأ الامام مالک، روایۃ یحییٰ ۲/ ۹۰۴ ح ۱۷۴۱، وسندہ صحیح)

یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ نے فرمایا:

مجھے معلوم ہوا ہے کہ آدمی حسنِ اخلاق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بھر روزہ رکھنے والے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔

(الموطأ روایۃ یحییٰ ۲/ ۹۰۴ ح ۱۷۴۰، وسندہ صحیح)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا:

رسول اللہ ﷺ کو جن دو کاموں میں اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کام ہی اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ والا (ناجائز) کام نہ ہوتا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی جان کے لئے کسی سے کبھی انتقام نہیں لیا اِلا یہ کہ اللہ کی مقرر کر دہ حرمت کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو اس صورت میں آپ اللہ کے لئے اس کا انتقام لیتے تھے۔

موطا روایۃ ابن القاسم: ۴۳، وأخرجہ البخاری (۳۵۶۰) ومسلم ( ۷۷/ ۲۳۲۷) من حدیث مالک بہ.

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s