شمائل ترمذی حدیث نمبر 1 کا ترجمہ، تحقیق و تخریج اور شرح و فوائد

أخبرنا أبو رجآءٍ قتیبۃ بن سعید عن مالک بن أنس عن ربیعۃ بن أبي عبدالرحمن عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ أنہ سمعہ یقول:

کان رسول اللہ ﷺ لیس بالطویل البائن ولا بالقصیر، ولا بالأبیض الأمھق ولا بالآدم، ولا بالجعد القطط ولا بالسبط، بعثہ اللہ علی رأس أربعین سنۃ، فأقام بمکۃ عشر سنین و بالمدینۃ عشر سنین ، و توفاہ اللہ علی رأس ستین سنۃ و لیس في رأسہ و لحیتہ عشرون شعرۃ بیضاء۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نہ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے قد کے تھے، آپ نہ بالکل دودھیا تھے اور نہ بہت زیادہ گندمی، آپ کے بال نہ تو بہت زیادہ گھنگرالے تھے اور نہ بالکل سیدھے اکڑے ہوئے تھے۔ آپ کو چالیس سال کی عمر میں اللہ نے (نبی بنا کر) مبعوث فرمایا۔ آپ مکہ میں دس (اور تین یعنی تیرہ) سال رہے اور مدینہ میں دس سال رہے۔ اللہ نے آپ کو ساٹھ (اور تین یعنی تریسٹھ) سال کی عمر میں وفات دی۔ آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔

تحقیق و تخریج: سندہ صحیح

سنن ترمذی (۳۶۲۳ وقال: حسن صحیح) صحیح بخاری (۳۵۴۸) صحیح مسلم (۲۳۴۷، من حدیث مالک بہ)

موطأ امام مالک (روایۃ یحییٰ ۲/ ۹۱۹ ح ۱۷۷۲ ، روایۃ ابن القاسم : ۱۵۹)

شرح و فوائد:

  • اس صحیح حدیث میں صرف دہائیاں بیان کی گئی ہیں، جبکہ دوسری صحیح حدیث میں واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تریسٹھ (۶۳) سال کی عمر میں وفات پائی۔ دیکھئے صحیح بخاری (۳۵۳۶) اور صحیح مسلم (۲۳۴۹)
  • سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت چہرے والے تھے اور خلقت میں سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔(صحیح بخاری: ۳۵۶۴۹، صحیح مسلم: ۲۳۳۶، ترقیم دارالسلام: ۶۰۶۶)
  • آپ ﷺ کا چہرہ مبارک چاند کی طرح خوبصورت تھا ۔ (صحیح بخاری: ۳۵۵۲)
  • نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سب سے اعلیٰ، سب سے افضل، سب سے خوبصورت اور صفاتِ عالیہ میں سب سے بلند ہیں۔
  • دینِ اسلام قرآن و حدیث کی صورت میں ہم تک مکمل پہنچا ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کی صورت مبارکہ، سیرت طیبہ، سنت، احکام اور تقریرات سب محفوظ و مدوّن ہیں۔ والحمد للہ
  • رسول اللہ ﷺ کا رنگ گورا سرخ و سفید اور انتہائی خوبصورت و دلکش تھا۔
  • آپ ﷺ کے سر اور داڑھی کے بال کالے سیاہ تھے، صرف کنپٹیوں کے پاس چند بال سفید ہوئے، اور وہ بھی تیل لگانے کے بعد سفید نظر نہیں آتے تھے۔
  • رسول اللہ ﷺ پر تریسٹھ سال کی عمر میں بھی بڑھاپا طاری نہیں ہوا تھا۔
  • آپ ﷺ کا قد درمیانہ تھا ۔ دیکھئے شمائل ترمذی حدیث: 2
  • امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ (ﷺ) کے جسم مبارک کا جو حصہ دھوپ اور ہوا کے سامنے ہوتا تھا وہ سفید سُرخی مائل تھا اور جس حصے پر براہِ راست دھوپ اور ہوا نہیں لگتی تھی وہ بہت زیادہ سفید اور چمک دار تھا۔ ( دلائل النبوۃ ۱/ ۲۹۹ ح ۲۴۹، دوسرا نسخہ ۱/ ۲۳۹ )

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 1 صفحہ ۴۳ اور ۴۴

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s