باب حیاء رسول اللہ ﷺ: رسول اللہ ﷺ کی حیا کا بیان

حدثنا محمود بن غیلان: أنا أبو داود: ثنا شعبۃ عن قتادۃ، قال: سمعت عبد اللہ بن أبي عتبۃ یحدث عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ، قال: کان رسول اللہ ﷺ أشد حیاء من العذراء في خدرھا و کان إذا کرہ الشئ عرف في وجھہ۔

ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پردہ دار کنواری سے زیادہ شرم و حیا والے تھے اور آپ جب کسی چیز کو ناپسند کرتے تو اس کا اثر آپ کے چہرہ مبارک پر ظاہر ہو جاتا تھا۔

تحقیق و تخریج: سندہ صحیح

شمائل ترمذی: 357، صحیح بخاری:3562، صحیح مسلم:2320، مسند ابی داود الطیالسی: 2222 (نسخۃ محققہ : 2336)

شرح و فوائد:

۱: رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ حیا دار تھے۔

۲: صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ حیا ایمان میں سے ہے اور حیا سے اچھائی ہی پیدا ہوتی ہے۔

۳: انسان کی اصلاح میں بنیادی کردار حیا کا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لوگوں تک کلامِ نبوت کی یہ بات پہنچی ہے کہ   (( إذا لم تستحِ فافعل ما شئت ۔))  جب شرم و حیا ہی نہ رہے تو جو چاہے کرو۔   [صحیح بخاری:۳۴۸۳]

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 357

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s