کسی کے احترام میں قیام کی طرح کھڑے ہو جانا

حدثنا عبد اللہ بن عبد الرحمن: أنا عفان: أنا حماد بن سلمۃ عن حمید عن أنس رضی اللہ عنہ قال: لم یکن شخص أحب إلیھم من رسول اللہ ﷺ قال: وکانوا إذا رأوہ لم یقوموا لما یعلمون من کراھتہ لذلک ۔

انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کوئی بھی محبوب نہیں تھا۔

(انس رضی اللہ عنہ نے) فرمایا : جب صحابہ آپ کو دیکھتے تو آپ کے لئے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں۔

تحقیق وتخریج: سندہ صحیح

شمائل ترمذی: 334، سنن ترمذی: 2754 وقال :’’حسن صحیح‘‘ ، مسند احمد: 3 /250

شرح و فوائد:

1. کسی کے لئے قیام کرنے کی دو حالتیں ہیں:

اول: کسی کے احترام میں قیام کی طرح کھڑے ہو جانا، جیسا کہ بعض سکولوں اور نام نہاد پیر خانوں میں ہوتا ہے۔

اس حدیث میں مذکورہ قیام سے یہی قیام مراد ہے اور ایسا قیام کرنا حرام ہے۔

دوم: کسی مریض یا زخمی کو کسی چیز سے اتارنے، مہمان کے استقبال کے لئے اور آنے والے کو سلام، مصافحہ یا معانقہ کرنے کے لئے قیام کرنا۔

یہ قیام جائز ہے جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے۔

2. صحابۂ کرام اتباعِ سنت میں سب سے مقدم تھے۔

رسول اللہ ﷺ کی محبت آپ کی اتباع میں ہے، نہ کہ غیر شرعی اُمور سر انجام دینے میں۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 334

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s