حسب استطاعت ایک دوسرے سے معروف میں ہر ممکن تعاون کرنا چاہئے

[حدثنا] علي بن حجر: ثنا سوید ابن عبد العزیز عن حمید عن أنس رضی اللہ عنہ: [أن امرأۃ جاء ت إلی النبيﷺ] فقالت: إن لي إلیک حاجۃ، فقال: ((اجلسي في أي طرق المدینۃ [شئت أجلس إلیک] ))

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے پاس ایک عورت آئی تو کہا: مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مدینے کے جس راستے میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں (تمھاری بات سننے کے لئے) تمھارے پاس بیٹھ جاؤں گا۔

شمائل ترمذی: 330، سنن ابی داود :4818 نحو المعنیٰ مطولاً و سندہ صحیح

تحقیق و تخریج: صحیح

شرح و فوائد:

1. رسول اللہ ﷺ عام مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے اور کاش کہ صحیح العقیدہ مسلمان حکمرانوں میں بھی ایسی صفات ہوتیں۔!

2. حسب استطاعت ایک دوسرے سے معروف میں ہر ممکن تعاون کرنا چاہئے۔

3. حدیث میں مذکورہ عورت انصاری تھی، لیکن اس کا نام معلوم نہیں ہے۔ رضی اللہ عنہا

4. شبہات والے اُمور سے بہت دور رہنا چاہئے اور اس بات کا پورا خیال رکھنا چاہئے کہ لوگوں کے دلوں میں کسی قسم کا شک و شبہ پیدا نہ ہو۔

5. اجنبیہ عورت کے ساتھ تنہائی میں ملاقات جائز نہیں ہے۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 330

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s