مومن ہر حال میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کر رہا ہوتا ہے

حدثنا محمود بن غیلان : أنا أبو أحمد: أنا سفیان عن عطاء بن السائب عن عکرمۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، قال : أخذ النبيﷺ ابنۃ لہ تقضي فاحتضنھا فوضعھا بین یدیہ فماتت و ھي بین یدیہ و صاحت أم أیمن رضی اللہ عنہا، فقال [یعني النبيﷺ]:((أتبکین عند رسول اللّٰہ ﷺ؟)) فقالت: ألست أراک تبکي؟ قال: ((إني لست أبکي، إنما ھي رحمۃ، إن المؤمن بکل خیرٍ علی کل حالٍ، إن نفسہ تنزع من بین جنبیہ وھو یحمد اللہ تعالی ۔))

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی بیٹی (غالباً نواسی) کو پکڑکرگود میں ڈال لیا، وہ نزع کے عالم میں تھیں، پھر آپ نے اسے اپنے سامنے رکھ لیا تو وہ آپ کے سامنے فوت ہو گئیں اور ام ایمن رضی اللہ عنہا نے چیخ کر رونا شروع کر دیا تو آپ نے فرمایا: تم رسول اللہ ﷺکے سامنے رو رہی ہو؟اس نے کہا: کیا آپ بھی رو نہیں رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں (چیخ کر) رو نہیں رہا، یہ (آنسو) تو رحمت ہے، مومن ہر حال میں بہتر رہتا ہے، اس کی روح اس کے پہلو سے کھینچی جا رہی ہوتی ہے اور وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کر رہا ہوتا ہے۔

تحقیق و تخریج: حسن

شمائل ترمذی: 324 وسندہ حسن، سنن نسائی: 1844

شرح و فوائد:

1. کسی کی وفات اور مصیبت پر چیخ کر رونا منع ہے، آنسو ؤں پر مؤاخذہ نہیں، کیونکہ ان پر اختیار نہیں، نیز یہ رحمدلی کی علامت ہیں۔

2. رسول اللہ ﷺ مشکل کشا اور مختارِ کل نہیں ہیں۔

3. اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے محبت کرنا فطرتِ انسانی میں داخل ہے۔

4. مصیبت ہو یا خوشی، مومن ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہی بیان کرتا ہے۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 324

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s