ألا کل شيء ما خلا اللہ باطل

ثنا محمد بن بشار: ثنا عبد الرحمن ابن مھدي: ثنا سفیان الثوري عن عبدالملک بن عمیر: ثنا أبو سلمۃ عن أبي ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ:

﴿إن أصدق کلمۃ قالھا الشاعر کلمۃ لبید: ألا کل شيء ما خلا اللہ باطل۔ و کاد أمیۃ بن أبي الصلت أن یسلم۔﴾

ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید کا قول ہے:

’’خبر دار سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔‘‘

اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت مسلمان ہو جاتا۔

شمائل ترمذی:241، صحیح بخاری:6489، صحیح مسلم:2256، سنن ترمذی:2849

شرح و فوائد:

1. لبید شاعر کے مذکورہ کلام کے دو معنی ہو سکتے ہیں:

اول: اللہ کے سوا ہر چیز کی عبادت باطل ہے۔

دوم: اللہ کے سوا ہر شے آخر فنا ہونے والی ہے اور یہی معنی یہاں راجح ہے۔

2. رسول اللہ ﷺکو اللہ نے اگرچہ اشعار نہیں سکھائے، جیسا کہ سورۃ یاسین کی آیت نمبر 69 سے ثابت ہے، لیکن آپ بعض اوقات کسی شعر کا ایک حصہ یا مقفیٰ و مسجیٰ کلام بھی بیان فرما دیتے تھے جو کہ اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ آپ شاعر نہیں تھے۔

3. عہدِ جاہلیت کے مشہور شاعر اور معلقات سبعہ (سات قصیدوں) میں سے ایک کے مصنف لبید بن ربیعہ بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ رضی اللہ عنہ

ان کے شعر مذکور کا بقیہ مصرعہ درج ذیل ہے:

و کُلُّ نَعِیْمٍ لا مَحالۃَ زائِل

اور ہر نعمت ضرور بالضرور ختم ہونے والی ہے۔

4. امیہ بن ابی الصلت بھی عہدِ جاہلیت کا مشہور شاعر تھا مگر اسلام و ایمان سے محروم رہا اور حالتِ کفر میں ہی مر گیا۔

شمائل ترمذی کی حدیث: 248

حدثنا علي بن حجر: أنا شریک عن عبد الملک بن عمیر عن أبي سلمۃ عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبيﷺ قال:

﴿أشعر کلمۃ تکلمت بھا العرب کلمۃ لبیدٍ: ألا کل شيءٍ ما خلا اللہ باطل۔﴾

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: عربوں میں سے شعریت کا سب سے زیادہ حامل مصرع لبید (بن ربیعہ) کا یہ مصرع ہے: خبردار سُن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔

تحقیق و تخریج: صحیح

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 241

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

2 خیالات “ألا کل شيء ما خلا اللہ باطل” پہ

  1. السلام علیکم۔ نماز میں عورتوں کے پاؤں کا پردہ لازمی ہے۔ یعنی ڈھکے ہونے چاہئیں۔
    ماہنامہ الحدیث شمارہ 13 صفحہ 19 پر ایک مضمون تو ہے ’’مرد اور عورت کی نماز میں فرق اور آل تقلید‘‘ لیکن اس مضمون میں پاؤں کے پردے کا ذکر نہیں ہے۔
    ماہنامہ الحدیث شمارہ 5 صفحہ 5 پر یہ تحریر موجود ہے:
    عور ت کے لئے اسلام کی دعوت بڑی واضح اور عام ہے کہ گلی ، محلہ ، بازار تو درکنا ر گھر یا مسجد میں نماز بھی اس حالت میں پڑھنی ہے کہ (عورت کے ) قدم چھپ جائیں۔ ( السنن الکبری للبیہقی 2/232)
    یعنی قدموں (پاؤں) کا پردہ بھی ضروری ہے۔

    پسند کریں

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s