حافظ ابن القیم رحمہ اللہ کا قصیدۂ نونیہ اور اہلِ حدیث

حافظ ابن القیم رحمہ اللہ (متوفی ۷۵۱ ہجری) نے فرمایا:

اے اہلِ حدیث سے بغض رکھنے اور گالیاں دینے والے، تجھے شیطان کی یاری ’’مبارک‘‘ ہو!

کیا تجھے علم نہیں کہ وہ اللہ کے دین، ایمان اور قرآن کے انصار ہیں؟

کیا تجھے پتا نہیں کہ وہ بلا شک و شبہ انصارِ رسول ہیں؟ ﷺ

ان کا قصور کیا ہے؟ جب انھوں نے رسول کی حدیث کے مقابلے میں تمھارے قول کی مخالفت کر دی، انھوں نے فلاں کے قول پر رسول کی حدیث کی مخالفت تو نہیں کی!

اگر وہ تیری حمایت کرتے اور حدیث کی مخالفت کرتے تو تُو گواہی دیتا کہ وہ سچے اہلِ ایمان ہیں۔

تم تو (اپنے) استادوں کے پیچھے چلے گئے اور وہ اس کے پیچھے چلے جسے قرآن دے کر بھیجا گیا ہے۔

انھوں نے ہر قول، حالت، قائل اور مکان کو چھوڑ کر اپنے آپ کو اس (رسول اللہ ﷺ کی حدیث) کی طرف منسوب کر لیا ۔یہ نسبت (یعنی اہلِ حدیث و اہلِ سنت ہونا) چار معلوم شدہ فرقوں کی طرف نسبت کرنے سے (بہت) بہتر ہے۔

اس لئے تم غضبناک ہو گئے، جب انھوں نے ایمان کے اعلیٰ درجے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو رسول (ﷺ) کی حدیث کی طرف منسوب کر لیا۔

پھر تم نے ان (اہلِ حدیث) کے ایسے القاب گھڑ لئے جنھیں تم خود ناپسند کرتے ہو اور یہ (تمھاری) سرکشی و زیادتی ہے۔

(قصیدہ نونیہ ص ۱۹۹۔۲۰۰ فصل فی أن أھل الحدیث ھم أنصار رسول اللہ ﷺ و خاصتہ [مترجماً مفھومًا])

اردو زبان میں اس عظیم الشان قصیدے کے چند دلکش نظاروں کے لئے دیکھئے مولانا عبد الجبار سلفی حفظہ اللہ کی کتاب: اہلحدیث پر خوفناک بہتانات کے دندان شکن جوابات از قصیدہ نونیہ (نا شر فیض اللہ اکیڈمی۔ اردو بازار لاہور)

حوالہ: ماہنامہ الحدیث شمارہ 88 لاسٹ اِن ٹائٹل یعنی صفحہ نمبر 50

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s