لا تقلد دینک أحدًا من ھؤ لاء

اگر کوئی کہے کہ فلاں امام مثلاً خطیب بغدادی وغیرہ نے تقلید کو جائز قرار دیا ہے۔!

تواس کا جواب یہ ہے کہ انھوں نے لغوی تقلید (مثلاً جاہل کا عالم سے مسئلہ پوچھنا) جو کہ درحقیقت اصطلاحی تقلید نہیں ہے، کو جائز قرار دیا ہے جبکہ ائمہ اربعہ اور دیگر اماموں نے اصطلاحی تقلید (مثلاً آنکھیں بند کر کے، بغیر سوچے سمجھے اور بغیر دلیل کے ائمہ اربعہ میں سے صرف ایک امام کی تقلید) سے منع فرمایا ہے لہٰذا ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ایک دن قاضی ابو یوسف کوفرمایا:

’’ویحک یا یعقوب! لا تکتب کل ما تسمع مني فإني قد أری الرأي الیوم و أ ترکہ غدًا و أری الرأي غدًا وأترکہ بعد غدٍ‘‘

اے یعقوب (ابویوسف) تیری خرابی ہو، میری ہر بات نہ لکھا کر، میری آج ایک رائے ہوتی ہے اور کل بد ل جاتی ہے۔ کل دوسری رائے ہوتی ہے تو پھر پرسوں وہ بھی بدل جاتی ہے۔

(تاریخ یحییٰ بن معین ج 2 ص 607 ت 2461 وسندہ صحیح، وتاریخ بغداد13 / 424)

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’کل ماقلت۔ وکان عن النبي (ﷺ) خلاف قولي مما یصح فحدیث النبي (ﷺ) أولٰی، ولا تقلدوني‘‘

میری ہر بات جو نبی (ﷺ) کی صحیح حدیث کے خلاف ہو (چھوڑ دو) پس نبی (ﷺ ) کی حدیث سب سے زیاد ہ بہتر ہے او ر میری تقلیدنہ کرو۔

(آداب الشافعی و مناقبہ لابن ابی حاتم ص 51 وسندہ حسن)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’ لا تقلد دینک أحدًا من ھؤ لاء‘‘ إلخ

اپنے دین میں، ان میں سے کسی ایک کی بھی تقلید نہ کر ۔۔۔۔ الخ

(مسائل ابی داود ص 277)

اس مضمون کے حوالہ کے لئے دیکھئے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے تحقیقی مقالات جلد 2 صفحہ 87 اور ماہنامہ الحدیث شمارہ 55 صفحہ 3 ۔

مزید تفصیل کے لئے دیکھیں ماہنامہ الحدیث شمارہ 9 صفحہ 46 اور شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ’’دین میں تقلید کا مسئلہ‘‘۔

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s