ہمارا منہج

1) نصوصِ شرعیہ (قرآنِ مجید، احادیث صحیحہ اور اجماع) سے حتمی استدلال کیا گیا ہے اور صریح نصوصِ شرعیہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں اجتہادکو جائز سمجھا گیا ہے۔

اجتہاد کی کئی اقسام ہیں مثلاً:

٭ سلف صالحین کے غیر اختلافی آثار سے استدلال

٭ سلف صالحین کے اختلافی آثار میں سے راجح کو اختیار کرنا

٭ عام دلیل سے استدلال

٭ قیاسِ صحیح ، مصالح مرسلہ اور اَولویت وغیرہ

2) صحیحین (صحیح بخاری و صحیح مسلم) کی تمام متصل مرفوع احادیث یقینا صحیح ہیں۔

3) اصولِ حدیث واصولِ محدثین سے جس خبر واحد کا صحیح ہونا ثابت ہو جائے وہ قطعی، حتمی اور یقینی طور پر صحیح ہوتی ہے، اسے ظنی وغیرہ سمجھنا باطل و مردود ہے۔اس صحیح روایت سے ایمان، عقیدہ، بیانِ قرآن، احکام اور اعمال ہر دینی مسئلے پر استدلال بالکل صحیح ہے۔

4) ہر وہ راوی جس کے بارے میں محدثین کا اختلاف ہو، اگر جمہور (مثلاً تین بمقابلۂ دو) اس کی صریح یا اشارتاً توثیق کردیں تو یہ راوی صدوق،حسن الحدیث ہوتا ہے اور اس کی بیان کردہ غیر معلول روایت فی نفسہ حسن لذاتہ اور حجت ہوتی ہے۔

تنبیہ: میری تحقیق میں حسن لغیرہ روایت کو حجت نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ضعیف ہی کی ایک قسم سمجھا جاتا ہے۔

5) جس راوی کو مجہول یا مستور کہا گیا ہے اگر اس کی صریح یا اشارتاً توثیق کسی ایک معتبر محدث مثلاً دارقطنی وابن خزیمہ وغیرہما سے ثابت ہو جائے تو یہ راوی صدوق، حسن الحدیث ہوتا ہے اور اسے مجہول و مستور کہنا غلط ہے اگرچہ ایک ہزار امام بھی اسے مجہول و مستور کہتے ہوں۔

تنبیہ: اشارتاً کا مطلب یہ ہے کہ کوئی محدث اس راوی کی حدیث کو صحیح یا حسن وغیرہ کہہ دے یا قرار دے۔

6) اگر ایک راوی کو مجہول یا مستور وغیرہ کہا گیا ہے اور دو متساہل محدثین مثلاً حافظ ابن حبان اور امام ترمذی اس کی توثیق صراحتاً یا اشارتاً کردیں تو اس راوی کو حسن الحدیث ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔

7) جس راوی کا مدلس ہونا اُن محدثین سے ثابت ہوجائے جو ارسال اور تدلیس کو ایک نہیں سمجھتے تو ایسے راوی کی عن والی روایت کو غیر صحیحین میں ضعیف سمجھا جاتا ہے۔

8) ثقہ وصدوق راوی کی زیادت کو ہمیشہ ترجیح حاصل ہے مثلاً ایک ثقہ و صدوق راوی کسی سند یا متن میں کچھ اضافہ بیان کرتا ہے۔ فرض کریں یہ اضافہ ایک ہزار راوی بیان نہیں کرتے، تب بھی اسی اضافے کا اعتبار ہو گا اور اسے صحیح یا حسن سمجھا جائے گا۔ ایسی صورت میں یہ کہنا کہ فلاں فلاں راوی نے یہ الفاظ بیان نہیں کئے، مخالفت کی ہے، مردود ہے۔

9) جس شخص کا جوقول بھی پیش کیا جائے اس کا صحیح وثابت ہونا ضروری ہے۔ صرف یہ کافی نہیں ہے کہ یہ فلاں کتاب مثلاً تہذیب الکمال، میزان الاعتدال یا تہذیب التہذیب وغیرہ میں لکھا ہوا ہے بلکہ اس کے ثبوت کے بعد ہی اسے بطورِ جزم پیش کرنا چاہئے۔

10) عین ممکن ہے کہ ایک روایت کی سند بظاہر صحیح و حسن معلوم ہوتی ہو لیکن محدثینِ کرام نے بالاتفاق اسے ضعیف قرار دیا ہو تو یہ روایت معلول ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود سمجھی جاتی ہے۔

11) کتاب وسنت کے مقابلے میں ہر قول اور ہر اجتہاد مردود ہے، مثلاً صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ متعۃ النکاح قیامت تک حرام ہے۔ اب اگر کسی عالم کا یہ قول مل جائے کہ متعۃ النکاح جائز ہے تو اس قول کو ہمیشہ مردود سمجھا جائے گا۔

12) کتاب وسنت کا وہی مفہوم معتبر و مستند ہے جو سلف صالحین سے بلا اختلاف ثابت ہے۔ اگر کسی بات میں ان کا اختلاف ہو تو راجح کو ترجیح دی جائے گی۔

13) اجتہادی اُمور اور اہلِ حق کے باہمی اختلاف میں وسعتِ نظر کے ساتھ علمی و باوقار اختلاف و استدلال جائز ہے اور مخالف کا احترام کرنا چاہئے۔

14) اپنی خطا سے علانیہ رجوع کرنا چاہئے۔

15) اہلِ بدعت کی کوئی عزت و توقیر نہیں ہے بلکہ ان سے براءت ایمان کا مسئلہ ہے۔

16) تکفیری و مرجی اور دیگر فرقِ ضالہ سے براء ت کرتے ہوئے حدیث اور اہلِ حدیث (محدثین اور متبعینِ حدیث) کا دفاع کرنا ہمارا نصب العین ہے۔

17) تمام پارٹیوں اور تنظیموں سے علیحدہ رہ کر اہلِ حق کو متحد کر کے ایک جماعت بنانا وہ عظیم مقصد ہے جس کے لئے ہم دن رات کوشاں ہیں۔

تنبیہ: یہ تحریر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم‘‘ کے مقدمہ صفحہ نمبر 53 اور 54 سے لی گئی ہے۔

مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ 34 صفحہ نمبر 2 تا 4

 

3 خیالات “ہمارا منہج” پہ

  1. Zunaira Fatima

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ ۔
    شیخ صاحب کی یہ کتاب جسکا حوالہ دیا گیا ھے”الاتحاف الباسم فی تحقیق موطا امام مالک "کتاب کی شکل میں موجود ھے ؟؟؟؟ یا اسکی pdf file ڈاینلوڈ ھو سکتی ھے ؟؟؟؟

    پسند کریں

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s