امام مالک بن انس المدنی رحمہ اللہ

موطأ امام مالک کے مصنف اور مدینہ طیبہ کے مشہور امام مالک رحمہ اللہ کا مختصر و جامع تذکرہ پیشِ خدمت ہے:

نام و نسب:

ابو عبداللہ مالک بن انس بن ابی عامر بن عمرو الاصبحی المدنی رحمہ اللہ

پیدائش:

۹۳ھ یا ۹۴ ھ بمقام مدینہ طیبہ

اساتذہ:

محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب الزہری، نافع مولیٰ ابن عمر، ایوب السختیانی ، جعفر بن محمد الصادق، حمیدالطویل، زید بن اسلم، ابو حازم سلمہ بن دینار، ہشام بن عروہ اور عبداللہ بن دینار وغیرہم

توثیق:

امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: ’’ثقۃ‘‘ (تقدمۃ الجرح والتعدیل ص ۱۶، وسندہ صحیح)

امام احمد بن حنبل نے فرمایا: ’’مالک أثبت في کل شئ‘‘ مالک ہر چیز میں ثقہ ہیں۔ (کتاب العلل و معرفۃ الرجال ۲ / ۳۴۹ رقم:۲۵۴۳)

اور فرمایا: مالک ( روایتِ حدیث میں) حجت ہیں۔ (سوالات المروذی:۴۵)

ابو حاتم الرازی نے کہا: ’’ ثقۃ إمام أھل الحجاز وھو أثبت أصحاب الزھري۔۔۔‘‘ اہلِ حجاز کے امام ہیں اور زہری کے شاگردوں میں سب سے زیادہ ثقہ ہیں۔ (الجرح والتعدیل ۱ / ۱۷)

علی بن عبداللہ المدینی نے فرمایا: مالک صحیح الحدیث ہیں۔ (تقدمۃ الجرح والتعدیل ص ۱۴، وسندہ صحیح)

حافظ ابن حبان نے انھیں کتاب الثقات میں ذکر کیا اور فرمایا: آپ ۹۳ یا ۹۴ ھ میں پیدا ہوئے۔(۷ / ۴۵۹)

عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ مشہور ثقہ ثبت حافظ سے پوچھا گیا: مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے مالک بن انس کو ابو حنیفہ سے بڑا عالم کہا ہے؟ انھوں نے فرمایا: میں نے یہ بات نہیں کہی بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ وہ ابو حنیفہ کے استاذ یعنی حماد (بن ابی سلیمان) سے بھی بڑے عالم ہیں۔ (الجرح والتعدیل ۱ / ۱۱، وسندہ صحیح)

یحییٰ بن سعید القطان نے فرمایا: مالک حدیث میں امام تھے۔ (تقدمۃ الجرح والتعدیل ص ۱۴، وسندہ صحیح)

امام ابو عبداللہ محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب مالک سے حدیث آجائے تو اسے مضبوط ہاتھوں سے پکڑ لو۔ (تقدمہ ص ۱۴، وسندہ صحیح)

امام شعبہ نے فرمایا: میں مدینہ میں داخل ہوا اور نافع زندہ تھے اور مالک کا حلقہ قائم تھا۔ (الجرح والتعدیل ۱ / ۲۶ وسندہ صحیح)

امام نافع رحمہ اللہ ۱۱۷ھ میں فوت ہوئے اور اس وقت امام مالک کی عمر۲۳ یا ۲۴ سال تھی یعنی جوانی میں ہی آپ کی امامت و مسندِ تدریس قائم ہو گئی تھی۔

امام مالک کی توثیق و تعریف پر اجماع ہے۔ آپ کی بیان کردہ احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، صحیح ابن الجارود، صحیح ابی عوانہ، سننِ اربعہ، کتاب الام للشافعی، مسند احمد اور مسلمانوں کی دیگر بڑی کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔

الموطأ:

امام شافعی رحمہ اللہ نے (صحیح بخاری و صحیح مسلم کی تصنیف سے پہلے) فرمایا: رُوئے زمین پر علمی کتابوں میں موطأ مالک سے زیادہ صحیح کوئی کتاب نہیں ہے۔ (الجرح والتعدیل ۱ / ۱۲، وسندہ صحیح)

موطأ امام مالک کا ذکر صحیح ابن خزیمہ (۱۴۰) اور صحیح ابن حبان (الاحسان:۵۶۳۸،دوسرا نسخہ ۵۶۶۷) وغیرہما میں کثرت سے موجود ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے امام مالک کی کتاب کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: ’’ما أحسن لمن تدین بہ‘‘ جوشخص دین پر چلنا چاہتا ہے، اُس کے لئے کتنی اچھی کتاب ہے۔ ( کشف المغطا فی فضل الموطا لابن عساکر ص ۴۱ وسندہ حسن، نیز دیکھئے الاستذکار ۱ / ۱۲، ۱۳)

تلامذہ:

سعید بن منصور، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، شعبہ، عبداللہ بن ادریس، عبداللہ بن المبارک، قعنبی، عبداللہ بن وہب، اوزاعی، عبدالرحمن بن مہدی، یحییٰ بن سعید القطان، ابن جریج، قتیبہ بن سعید، شافعی، وکیع، عبدالرحمن بن القاسم اور امام فزاری وغیرہم۔

وفات:

۱۷۹ھ بمقام مدینہ طیبہ

یہ مضمون لیا گیا ہے:   شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم‘‘ صفحہ ۵۹ اور ۶۰۔

یہی مضمون ماہنامہ الحدیث شمارہ 50 صفحہ نمبر 47 اور 48 پر بھی شائع ہوا ہے۔

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s