امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدیوں کو بیٹھ کر نماز پڑھنی چاہئے

جب امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدیوں کو بیٹھ کر نماز پڑھنی چاہئے۔ بعض علماء اس حدیث کو منسوخ سمجھتے ہیں لیکن دوسرے علماء اسے منسوخ نہیں سمجھتے۔

سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ اس حدیث کے راوی ہیں کہ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بیٹھ کر نماز پڑھو۔ (صحیح مسلم:۴۱۳ وترقیم دار السلام:۹۲۸)

ایک دفعہ جابر رضی اللہ عنہ نے بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ (دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ۲/ ۳۲۶ ح ۷۱۳۷ وسندہ صحیح، وصححہ ابن حجر فی فتح الباری ۲/ ۱۷۶ تحت ح ۶۸۹)

اس سے معلوم ہوا کہ منسوخ ہونے کا دعویٰ صحیح نہیں ہے۔

سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیماری میں بیٹھ کر نماز پڑھی اور مقتدیوں کو حکم دیا کہ بیٹھ کر نماز پڑھو تو انھوں نے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ (دیکھئے الاوسط لابن المنذر ۴/ ۲۰۶، اثر:۲۰۴۵ وسندہ صحیح وصححہ الحافظ ابن حجر فی فتح الباری ۲/ ۱۷۶)

عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے لوگوں کو اسی پر پایا ہے کہ اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھتا تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ (مصنف عبدالرزاق ۲/ ۴۶۳ ح ۴۰۸۹)

احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کے نزدیک اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو لوگ اس کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھیں گے۔ (دیکھئے مسائل الامام احمد بن حنبل و اسحاق بن راہویہ، روایۃ اسحاق بن منصور الکوسج:۳۴۸،سنن الترمذی:۳۶۱)

’’اہل الحدیث‘‘ کے ایک گروہ کا یہی قول ہے۔ (الاعتبار فی بیان الناسخ والمنسوخ من الآثار للحازمی ص۱۱۱)

یہ مضمون لیا گیا ہے: الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم صفحہ 68 حدیث نمبر 1 کا تفقہ

اسی کتاب الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم کے صفحہ 532 پر حدیث نمبر 454 کا ترجمہ:

اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور آپ بیمارتھے۔ لوگوں نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کر دی تو آپ نے اشارے سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، جب وہ (رکوع سے) سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم (بھی) بیٹھ کر نماز پڑھو۔

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s