راجح یہی ہے کہ امام، مقتدی اور منفرد سب سمع اللہ لمن حمدہ کہیں

راجح یہی ہے کہ امام، مقتدی اور منفرد سب ’’سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘‘ پڑھیں۔

محمد بن سیرین رحمہ اللہ اس کے قائل تھے کہ مقتدی بھی سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہے۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱/ ۲۵۳ ح ۲۶۰۰ وسندہ صحیح)

امام ابن سیرین کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((إذا قال الإمام: سمع اللہ لمن حمدہ ، فلیقل من وراءہ:سمع اللہ لمن حمدہ ۔))

جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو اس کے مقتدی کو بھی سمع اللہ لمن حمدہ کہنا چاہئے۔

(سنن الدارقطنی ۱/ ۳۳۹ ح ۱۲۷۰، وسندہ حسن لذاتہ)

یہ روایت موقوفاً بھی حسن ہے۔

یہ مضمون لیا گیا ہے: الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم صفحہ 68 حدیث نمبر 1 کا تفقہ

یہی مضمون فتاویٰ علمیہ صفحہ 282 پر بھی شائع ہوا ہے: ’’امامت و اقتداء کا بیان‘‘ سوال: ’’مقتدی کے لئے سمع اللہ لمن حمدہ کہنا‘‘

شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے:

مقتدی کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ بھی امام کے پیچھے سمع اللہ لمن حمدہ کہے، کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ صرف امام سمع للہ لمن حمدہ کہے اور مقتدی سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہُ نہ کہے۔ بلکہ عام احادیث میں امام مقتدی اور منفرد سب شامل ہیں۔

اور سنن دارقطنی (1/ 338 ، 339ح 1270) کی صحیح حدیث (حسن لذاتہ) سے ثابت ہے کہ مقتدی بھی سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے گا۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ سَمِعَ اللہ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے میں امام اور مقتدی برابر ہیں، جو اس کا انکار کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ [ماہنامہ شہادت، دسمبر2003ء]

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s