کیا لوگوں کو میت کی اطلاع دینا جائز ہے؟

لوگوں کو میت کی اطلاع دینا جائز ہے۔ دیکھئے فتح الباری (۳/ ۱۱۶)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع مدینے کے اردگرد والی بستیوں تک پہنچانے کا حکم دیا تھا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ۴/ ۲۳۹ح۴۲۴۲، السنن الکبریٰ للبیہقی ۴/ ۷۴ وسندہ صحیح)

ایک روایت میں میت کی اطلاع دینے سے منع کیا گیا ہے۔(سنن الترمذی :۹۸۶ وقال: ھٰذا حدیث حسن) لیکن یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ بلال بن یحییٰ کی سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔

اگر یہ روایت صحیح بھی ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ جاہلیت کی طرح گلی کوچوں میں چیخ چیخ کر موت کا اعلان کرنا ممنوع ہے۔ دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو (۱۱/ ۲۰) اور کتاب الجنائز للمبارکپوری (ص۱۸)

یہ مضمون لیا گیا ہے: الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم صفحہ 82 حدیث نمبر 14 کا تفقہ

ماہنامہ الحدیث شمارہ 11 صفحہ 18 تا 21 پر ایک سوال کا جواب:

مسجد میں میت کا اعلان اور اطلاع؟

جوابات درج ذیل ہیں:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’أن رسول اللہ ﷺنعی النجاشي فی الیوم الذی مات فیہ‘‘ بے شک رسول اللہﷺ نے نجاشی (رضی اللہ عنہ) کی موت کی خبر اس وقت دی، جس دن نجاشی فوت ہوئے تھے ۔ [صحیح البخاری: 1245 وصحیح مسلم:62/ 951]

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو میت کی اطلاع دینا جائز ہے۔

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’وفائدۃ ھذہ الترجمۃ الإشارۃ إلی أن النعي لیس ممنوعاًکلہ‘‘ اور (امام بخاری کے) اس باب کا فائدہ یہ ہے کہ میت کی اطلاع دینا، تمام حالتوں میں ممنوع نہیں ہے۔ [فتح الباری 3/ 116 باب الرجل ینعی إلی أھل المیت بنفسہ]

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی بیوی (أم عبدالحمید رضی اللہ عنہا، دیکھئے الإصابۃ ص 1817) سے روایت ہے کہ: ’’رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ عصر کے بعد فوت ہوئے تو عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) سے کہاگیا: رافع بن خدیج فوت ہو گئے ہیں۔ آپ ان پر رحم کی دعا کریں (یعنی جنازہ پڑھیں)۔ انہوں نے فرمایا: رافع جیسے آدمی کا جنازہ اس وقت تک نہیں نکلنا چاہیے جب تک مدینے کے اردگرد بستیوں والوں کوبھی اطلاع دے دی جائے۔ پھر ہم جب (صبح کے وقت) ان کا جنازہ لے کر نکلے تو ابن عمر (اوردوسرے لوگوں) نے جنازہ پڑھا، ابن عمر (رضی اللہ عنہ) قبر کے سر کے پاس بیٹھ گئے ۔الخ‘‘
[المعجم الکبیر للطبرانی ج 4 ص 239ح 4242، السنن الکبریٰ للبیہقی 4/ 74]

اس روایت کی سند یحیی بن عبدالحمید بن رافع کی دادی (ام عبدالحمید رضی اللہ عنہا) تک صحیح ہے۔

بلال بن یحیی العبسی الکوفی عن حذیفۃ بن الیمانکی سند سے روایت ہے کہ (سیدنا) حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں فوت ہو جاؤں تو میرا اعلان نہ کرنا، مجھے یہ ڈر ہے کہ یہ نعی (میت کی خبر) نہ بن جائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعی سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن ترمذی:986 وقال:’’ھذا حدیث حسن ‘‘ وابن ماجہ:1476]

اس سند کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری (3/ 117) میں اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے احکام الجنائز (ص 31) میں حسن کہا ہے ۔ (!)

حافظ ابن حجر بذاتِ خود لکھتے ہیں کہ: ’’وقال الد وري عن ابن معین:روایتہ عن حذیفۃ مرسلۃ‘‘ اور (عباس) الدوری نے یحیی بن معین سے نقل کیا کہ:بلا ل مذکور کی حذیفہ سے روایت مرسل ہے۔ [تہذیب التہذیب1/ 443]

یہ روایت عباس الدوری کی تاریخ میں نہیں ملی لیکن بغیر قوی دلیل کے حافظ ابن حجر کی نقل کو رد کرنا محل نظر ہے۔

ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ: ’’روی عن حذیفۃ ۔۔ بلغني عن حذیفۃ‘‘ اس نے حذیفہ سے روایت کی ہے، وہ کہتا ہے: مجھے یہ بات حذیفہ سے پہنچی ہے۔ [الجرح والتعدیل 2/ 396]

اس سے بھی عباس الدوری والے حوالے کی تائید ہوتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ یہ روایت منقطع ہے لہذا ضعیف ہے۔ اس کی تائید کرنے والی ایک روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (سنن الترمذی:984، 985)

یہ روایت ابو حمزہ میمون الاعور کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (ابو حمزہ ضعیف /تقریب:7057)

ابو میسرہ (عمروبن شرحبیل الھمدانی:ثقہ عابد مخضرم) علقمہ اور اسود (بن یزید) نے یہ وصیت کی تھی کہ: ہماری میت کا کسی کے سامنے اعلان نہ کیا جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 3/ 275 ح 11209 وسندہ صحیح)

ابو وائل (شقیق بن سلمہ / ثقہ تابعی) نے اپنی وفات کے وقت فرمایا: ’’إذا أنامت فلا تؤذنوا بي أحداً‘‘ جب میں فوت ہو جاؤں تو کسی کے سامنے میرا اعلان نہ کرنا۔ (ابن ابی شیبہ:11208 وسندہ صحیح)

ابر اہیم النخعی سے روایت ہے کہ لوگ نعی (میت کی خبر اور اعلان) کو مکروہ سمجھتے تھے۔ ابن عون (اس کے راوی) کہتے ہیں کہ: ’’اگر کوئی شخص (جاہلیت میں) مر جاتا تو ایک آدمی کسی جانور پر سوار ہو جاتا اور چیخ چیخ کر اعلان کرتاکہ فلاں شخص فوت ہو گیاہے۔‘‘ (سنن سعید بن منصور بحوالہ فتح الباری:3/ 117 وسندہ صحیح)

محمد بن سیرین (تابعی) فرماتے ہیں کہ: ’’آدمی اگر جنازے کے لیے اپنے دوستوں ساتھیوں کو خبر دے تو کوئی حرج نہیں ہے‘‘۔ [ابن ابی شیبہ: 3/ 276ح 11218 وسندہ صحیح]

محدث کبیر مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ (متوفی 1353ھ) لکھتے ہیں کہ:

’’قرابت مند اور دوست و احباب کو تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ میں شریک ہونے کے لیے موت کی خبر دینا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اور صحابہ نے باہم ایک دوسرے کو موت کی خبر دی ہے۔ اور حدیث میں جو نعی کی ممانعت آئی ہے سونعی سے مطلق موت کی خبر دینا مراد نہیں ہے۔ بلکہ اس طرح پر موت کی خبر دینا مرا دہے جس طرح پر زمانۂ جاہلیت میں دستور تھا۔ حافظ ابن حجر نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے:

’’جاہلیت کا دستور تھا کہ جب کوئی مرتاتو کسی کو محلوں کے دروازوں پر اور بازاروں میں بھیجتے، وہ گشت کر کے بآواز بلند اس کے مرنے کی خبر کرتا‘‘

اورنہایہ جزری وغیرہ میں لکھا ہے کہ:

’’جب کوئی شریف آدمی مرتا یا قتل کیاجاتا تو قبیلوں میں ایک سوار کو بھیجتے، جو چلا کر اس کی موت کی خبر کرتا کہ فلاں شخص مر گیا یا فلاں شخص کے مرنے سے عرب ہلاک ہو گیا‘‘

پس موت کی خبر جاہلیت کے اس طریقے پر دینا ممنوع و ناجائز ہے اور مجرد (یعنی محض) موت کی خبر دینا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ اور صحابہ نے باہم ایک دوسرے کو دی ہے منع نہیں‘‘۔ [ کتاب الجنائز، طبع فاروقی کتب خانہ ملتان ص 18]

ہمارے علاقے میں اگر کوئی خاص آدمی مر جاتاہے تو اس کے ورثاء کی طرف سے ایک سوزوکی یا گاڑی میں لاؤڈ سپیکر فٹ (نصب) کر کے سڑک سڑک، گلی گلی اعلان کیا جاتا ہے۔ معلو م یہی ہوتا ہے کہ یہ جاہلیت کی رسوم سے مشابہت ہے۔ واللہ اعلم

خلاصۃ البحث:

میت کی تجہیز، تکفین، نماز جنازہ اور تعزیت کے لیے مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر میت کی وفات کا اعلان جائز ہے۔ اعلان سے منع والی روایت بلحاظِ اصولِ حدیث ضعیف اور غیر ثابت ہے۔

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s