پردے کے تین اوقات

تحریر: الشیخ حبیب الرحمٰن ہزاروی حفظہ اللہ

اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی گزارنے کے ہر پہلو میں آداب بتائے ہیں۔کسی کے پاس اُس کے گھر جاتے وقت کے آداب بھی سکھائے ہیں۔

مثلاً سورۃ النور (۲۷) میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے: جب تم اپنے گھروں کے علاوہ کسی دوسرے کے گھر میں جاؤ تو اجازت طلب کرو،سلام کر و۔

اجازت تین مرتبہ طلب کرنی چاہئے، اگر پہلی دفعہ اجازت نہ ملے تو دوسری مرتبہ طلب کرنی چاہئے اور اگر تیسری مرتبہ بھی اجازت نہ ملے تو واپس چلے جانا چاہئے ۔جیسا کہ صحیح بخاری (۲۰۶۲)،صحیح مسلم (۲۱۵۳) میں ہے۔

پیارے نبی کریم ﷺنے یہ بھی ادب سکھایا کہ جب تم کسی کے گھر جاؤ تو دروازے یا دیوار وغیرہ سے جھانک کر نہ دیکھو۔

یہ حکم اتنا مؤکد ہے کہ اگر کوئی جھا نک کر دیکھے، تواہل خانہ میں سے کوئی اُس کی آنکھ پھوڑ دے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا: اگر کو ئی شخص تمھاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے تو تم اسے کنکری ماردو جس سے اگر اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کو ئی گنا ہ نہیں ہے۔ (صحیح بخاری:۶۹۰۲)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے حجر ے میں جھانکنے لگا تو آپ ﷺ تیر کا پھل لے کر اُٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اسے مار دیں ۔ (صحیح بخاری:۶۹۰۰)

اجازت اسی لئے ہے کہ اندر جھا نک کر نہ دیکھا جائے۔

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے دروازے کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، اس وقت آپ ﷺ کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ سر جھاڑرہے تھے۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھا نک رہے ہو تو میں اسے تمہا ری آنکھ میں چبھو دیتا۔‘‘ پھر آپ ﷺنے فرمایا:اجازت لینے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے ہے کہ نظر نہ پڑے۔ (صحیح بخاری:۶۹۰۱)

ایسے ہی ایک خاص حکم ہمیں یہ بھی دیا کہ تین اوقات میں تمہارے بچے، غلام اورلونڈیاں بھی اجازت لے کر گھر میں داخل ہوں، ارشاد ربّانی ہے:

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو،تمھارے مملوک اور تم میں سے جو (حدِّ) بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں،تین وقتوں میں (تمھارے پاس آنے کی) تم سے اجازت لیا کریں، (یعنی) فجر کی نماز سے پہلے اور دوپہر کو جب کہ تم (سونے لیٹنے کے لئے اپنے بعض) کپڑے اتار دیا کرتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد (یہ) تین وقت تمہارے پردے کے (وقت) ہیں ۔ان (اوقات) کے سوا نہ تم پر کو ئی الزام ہے نہ ان پر (کیونکہ وہ اکثر تمہارے پاس آتے جا تے رہتے ہیں کوئی کسی کے پاس یا کوئی کسی کے پاس۔ اس طرح اللہ (اپنے) احکام تم سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔(سورۃ النور: ۵۸ترجمہ الکتاب ص۲۱۶)

جمہور علمائے اکرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت مردوں وعورتوں دونوں کو شامل ہے۔

امام قرطبی (الجامع لاحکام القراٰن ج۱۲ص۳۰۳) اور امام ابن جریر طبری نے (جامع عن آئ القراٰن ج۸ص۴۵۳) میں صراحت کی ہے اوریہ آیت محکم ہے،منسوخ نہیں۔

امام شعبی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے؟ تو انھوں نے فرمایا :ہرگزنہیں۔ اس نے کہا لوگوں نے اس پر عمل کیوں چھوڑدیاہے ؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرنی چاہیے۔ (الطبری ج۸ص۴۵۳ وسند ہ صحیح)

اس آیت کے منسوخ نہ ہونے کی صراحت قرطبی ( الجامع لاحکام القرا ن ج ۱۲ ص ۳ ۰ ۳ ) ابن کثیر تفسیر القران العظیم ج۴ ص ۵۷۲) اور ابن جوزی (زاد المسیر ج۶ص۶۲) نے بھی کی ہے۔

لیکن اکثر لوگ اس پر عمل کرنے سے غافل ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس آیت پر عمل کے ترک کی ایک بڑی وجہ مال داری اور فراخی ہے ۔پہلے تو لوگوں کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے دروازوں پر پردے لٹکالیتے یا کشادہ گھر کئی الگ الگ کمروں والے ہوتے تو بسا اوقات لونڈی غلام بے خبری میں چلے آتے اور میا ں بیوی مشغول ہوتے تو آنے والے بھی شرما جاتے اور گھر والوں پر بھی شاق گزرتا اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کشادگی دی کمرے جدا گانا بن گئے دروازے باقاعدہ لگ گئے۔ دروازوں پر پردے لگ گئے، تو محفوظ ہوگئے۔ حکم الٰہی کی مصلحت پوری ہوگئی اسی لئے اجازت کی پابندی اٹھ گئی اور لوگوں نے اس میں سستی اور غفلت شروع کردی۔ (ابوداؤد :۱۵۹۲حسن)

لہٰذا ہمیں اس معاملے میں اپنی اولاد کی تربیت کرنی چاہیے ۔اُن کو دین کے بنیادی احکام سیکھانے چاہیے۔ وماعلیناإلاالبلاغ [الشیخ حبیب الرحمٰن ہزاروی حفظہ اللہ]

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s