مسواک کے کچھ مسائل

1. مسواک واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے اور فطرت (دینِ اسلام) میں سے ہے۔ (دیکھئے صحیح مسلم: ۲۶۱)

2. مسواک منہ کو پاک کرنے والی اور رب کی رضا مندی ہے۔ (سنن النسائی ۱/ ۱۰ح۵ وسندہ حسن وھو حدیث صحیح)

3. مسواک کو استعمال کرنے سے پہلے دھونا چاہئے۔ (دیکھئے سنن ابی داود: ۵۲ وسندہ حسن لذاتہ وحسنہ النووی فی المجموع ۱/ ۲۸۳)

4. ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کی مسواک پانی میں بھیگی رہتی تھی جسے وہ استعمال کرتی تھیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/ ۱۷۰ح۱۸۰۱، وسندہ حسن)

5. ابن عمر رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں مسواک کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ ۳/ ۳۵ح۹۱۴۹ وسندہ صحیح)

آپ فرماتے: روزے دار کے لئے خشک اور تر (دونوں طرح کی) مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۳/ ۳۷ ح۹۱۷۳ وسندہ صحیح)

بعض علماء تر مسواک کو مکروہ سمجھتے تھے لیکن راجح یہی ہے کہ تر مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

6. امام شعبی (تابعی) نے کہا: مسواک منہ کی صفائی اور آنکھوں کی جلاء (روشنی) ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۱۷۰ح۱۷۹۶، وسندہ صحیح)

7. ’’ہر نماز سے پہلے اور ہر وضو سے پہلے مسواک کا حکم‘‘ میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ ہر نماز سے پہلے سے بھی یہی مراد لیا جائے گا کہ وضو سے پہلے مسواک کی جائے۔ اگر ہر نماز سے پہلے مسواک کر لی جائے تو بھی جائز ہے۔ واللہ اعلم

یہ مضمون لیا گیا ہے: الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم حدیث 32 کا تفقہ

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s