نماز میں سترہ قائم کرنا سنت مؤکدہ ہے

1. امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے۔

2. نماز میں سترہ قائم کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ نیز دیکھئے التمہید (۴/ ۱۹۳)

رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی (ذراع) جتنا سترہ رکھے تو نماز پڑھے، اس سترے کے باہر سے اگر کوئی گزرے تو اسے نقصان نہیں ہے۔ (صحیح مسلم:۴۹۹)

3. نماز میں سترہ رکھنا واجب نہیں ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺمنیٰ میں لوگوں کو بغیر دیوار کے نماز پڑھا رہے تھے۔ (صحیح بخاری:۴۹۳)

اس کی تشریح میں امام شافعی فرماتے ہیں: بغیر سترے کے۔ ( کتاب اختلاف الحدیث مع الأم ص ۱۷۴۵، فتح الباری ج ۱ ص ۵۷۱، السنن الکبریٰ للبیہقی ۲/ ۲۷۳)

امام شعبہ نے اپنے استاد عمرو بن مرہ (راوئ حدیث) سے پوچھا: کیا آپ (ﷺ) کے سامنے نیزہ تھا؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ (مسند علی بن الجعد: ۹۰ وسندہ صحیح، مسند ابی یعلیٰ ۴/ ۳۱۲ ح ۲۴۲۳)

مسند البزار (البحر الزخار ۱۱/ ۲۰۱ح ۴۹۵۱) وغیرہ میں اس کے شواہد بھی ہیں۔

4. یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ میں نے (سیدنا) انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) کو مسجدِ حرام میں دیکھا آپ اپنی لاٹھی گاڑ کر اس کی طرف نماز پڑھ رہے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/ ۲۷۷ ح ۲۸۵۳ وسندہ صحیح)

معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص مسجد میں سترہ رکھ کر نماز پڑھے تو یہ عمل بالکل صحیح ہے۔

5. ہشام بن عروہ نے فرمایا: میرے ابا (عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ) سترے کے بغیر نماز پڑھتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۲۷۹ ح ۲۸۷۱ وسندہ صحیح)

حسن بصری نے صحراء میں سترے کے بغیر نماز پڑھی۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۲۷۹ ح ۲۸۷۲ وسندہ صحیح)

تفصیل کے لئے دیکھئے الاتحاف الباسم: حدیث 48 کا تفقہ

سترے کے موضوع پر دیگر احادیث کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ 22 صفحہ 63 اور شمارہ 23 صفحہ 43۔

فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام میں ’’سترے کا بیان‘‘ کے عنوان سے سوال/جواب کا ایک صفحاتی مضمون ہے۔ صفحہ 280 پر۔

سوال: کیا نماز میں سترہ قائم کرنا واجب یا مستحب ہے؟ (حافظ شفیق باغ، آزاد کشمیر)

نماز میں سترہ کا اہتمام کرنا مستحب ہے۔ وہ احادیث جن میں سترہ کی تائید و حکم یا سترہ کے بغیر نماز پڑھنے کی ممانعت ہے، استحباب پر محمول ہیں۔

ان احادیث کے امر کو وجوب سے استحباب پر پھیرنے والی وہ دلیل ہے جسے امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں (ج2 ص 25 ح 838۔ 839) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے: پس ہم رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزرے آپ عرفات میں فرض نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ کے اور ہمارے درمیان کوئی چیز بھی بطورِ سترہ موجود نہیں تھی۔

صحیح ابن خزیمہ کے محقق نے بھی اسے ’’ اسنادہ صحیح‘‘ کہا ہے۔ اس کی تائید امام بزاز رحمہ اللہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (ج1ص 171) میں ذکر کیاہے۔نیز دیکھئے شرح صحیح بخاری لابن بطال (2/ 175) البحرالزخار (11/ 201 ح4951) اور نصب الرایہ (2/ 82)

’’الفقہ الاسلامی وادلتہ‘‘ (1/752)نامی کتاب میں ہے: ’’ولیست واجبۃ بإتفاق الفقہاء لأن الأمر بإتخاذھا للندب‘‘ اس پر فقہاء (اربعہ) کا اتفاق ہے کہ سترہ واجب نہیں ہے، لہٰذا ان کے نزدیک سترہ کا حکم استحباب پر محمول ہے۔

[شہادت، دسمبر 2000ء، ہفت روزہ الاعتصام لاہور،27 /جون 1997ء]

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s