صحابۂ کرام سے رفع یدین کا ثبوت متواتر ہے

الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم کی حدیث 59:

(سیدنا) ابن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں کندھوں تک رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح رفع یدین کرتے اور فرماتے: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ)) اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی۔ ((رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)) اے ہمارے رب! اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔ اور آپ (ﷺ) سجدوں میں رفع یدین نہیں کرتے تھے۔

تحقیق: صحیح

صرح ابن شہاب بالسماع عندالبخاری (۷۳۶)

تخریج: البخاري

الموطأ (روایۃ محمد بن الحسن الشیبانی ص ۸۹ ح ۹۹) التمہید ۹/ ۲۱۰ والاستذکار:۱۳۹ بلفظ یحییٰ بن یحییٰ

تنبیہ: یہ روایت یحییٰ بن یحییٰ کے نسخے میں مختصراً مروی ہے جس میں رکوع سے پہلے والے رفع یدین کا ذکر نہیں ہے۔ (دیکھئے الموطأ روایۃ یحییٰ ۱/ ۷۵ ح ۱۶۰، ک ۳ ب ۴ ح ۱۶)

٭ وأخرجہ البخاری (۷۳۵) من حدیث مالک بہ۔ رواہ مسلم (۳۹۰) من حدیث ابن شہاب الزہری بہ۔

تفقہ:

نماز میں رکوع سے پہلے اور بعد کا رفع یدین درج ذیل صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے:

سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا مالک بن حویرث (صحیح بخاری:۷۳۷ و صحیح مسلم:۳۹۱)

سیدنا وائل بن حجر (صحیح مسلم:۴۰۱)

سیدنا ابو حمید الساعدی (سنن الترمذی:۳۰۴ وقال:’’ ھٰذا حدیث حسن صحیح‘‘ وصححہ ابن خزیمہ:۵۸۷ وابن حبان، الاحسان:۱۸۶۴،وابن الجارود:۱۹۲، وسندہ صحیح)

سیدنا ابو بکر الصدیق (السنن الکبریٰ للبیہقی ۲/ ۷۳ وسندہ صحیح)

سیدنا علی بن ابی طالب (سنن الترمذی:۳۴۲۳ وقال:’’ھٰذا حدیث حسن صحیح‘‘ وصححہ ابن خزیمہ:۵۸۴ وسندہ حسن)

سیدنا ابو موسیٰ الاشعری (سنن الدارقطنی ۱/ ۲۹۲ ح ۱۱۱۱، وسندہ صحیح)

سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری (مسند السراج ص ۲۵ ح ۹۲ وسندہ حسن)

اوردیگر نو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے جیسا کہ سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ نماز میں رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین متواتر ہے۔

تواترِ رفع یدین کی مزید تحقیق کے لئے دیکھئے قطف الازہارالمتناثرہ (ح ۳۳) لقط اللالی المتناثرۃ (ح ۶۲) نظم المتناثر (ح ۶۷) فتح الباری (۱/ ۲۰۳) اور التقیید والایضاح للعراقی (ص ۲۷۰) وغیرہ۔

درج ذیل صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے رفع یدین (قبل الرکوع و بعدہ) ثابت ہے:

عبداللہ بن عمر (صحیح بخاری:۷۳۹، وجزء رفع الیدین للبخاری:۸۰ وسندہ صحیح و صححہ ابو داود: ۷۴۱)

سیدنا مالک بن الحویرث (صحیح بخاری:۷۳۷ وصحیح مسلم:۳۹۱)

سیدنا ابو موسیٰ الاشعری (سنن الدارقطنی ۱/ ۲۹۲ ح ۱۱۱۱، وسندہ صحیح)

سیدنا ابو بکر الصدیق (السنن الکبریٰ للبیہقی ۲/ ۷۳ وسندہ صحیح)

سیدنا عبداللہ بن الزبیر (السنن الکبریٰ للبیہقی ۲/ ۷۳ وسندہ صحیح)

سیدنا ابن عباس (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/ ۲۳۵ وسندہ صحیح)

سیدنا انس بن مالک (جزء رفع الیدین:۲۰ وسندہ صحیح)

سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری (مسند السراج:۹۲ وسندہ حسن)

سیدنا ابو ہریرہ (جزء رفع الیدین:۲۲ وسندہ صحیح)

جلیل القدر تابعی سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’رسول اللہ ﷺکے صحابۂ کرام شروع نماز میں اور رکوع کے وقت اور رکوع سے سراٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔‘‘ ( السنن الکبریٰ للبیہقی ۲/ ۷۵ وسندہ صحیح)

ثابت ہوا کہ صحابۂ کرام سے رفع یدین کا ثبوت متواتر ہے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین

درج ذیل تابعینِ کرام سے رفع یدین ثابت ہے:

محمد بن سیرین (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/ ۲۳۵ ح ۲۴۳۶ وسندہ صحیح)

ابو قلابہ البصری (ابن ابی شیبہ:۲۴۳۷ وسندہ صحیح)

وہب بن منبہ (التمہید ۹/ ۲۲۸ ومصنف عبدالرزاق:۲۵۲۴ وھو صحیح)

سالم بن عبداللہ المدنی (جزء رفع الیدین:۶۲ وسندہ حسن)

قاسم بن محمد المدنی (جزء رفع الیدین:۶۲ وسندہ حسن)

عطاء بن ابی رباح (جزء رفع الیدین:۶۲ وسندہ حسن)

مکحول الشامی (جزء رفع الیدین:۶۲ وسندہ حسن)

نعمان بن ابی عیاش (جزء رفع الیدین:۵۹ وسندہ حسن)

طاؤس (السنن الکبریٰ للبیہقی ۲/ ۷۴ وسندہ صحیح)

سعید بن جبیر (السنن الکبریٰ ۲/ ۷۵ وسندہ صحیح)

الحسن البصری (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/ ۲۳۵ ح ۲۴۳۵ وسندہ صحیح) وغیر ہم

ثابت ہوا کہ تابعین سے رفع یدین کا ثبوت متواتر ہے۔ رحمہم اللہ اجمعین

درج ذیل ائمۂ کرام سے رفع یدین قولاً وفعلاً ثابت ہے:

مالک بن انس، صاحب الموطأ (سنن الترمذی:۲۵۵ وھو صحیح)

شافعی ( کتاب الام ۱/ ۱۰۴)

احمد بن حنبل (مسائل احمد لابی داود ص۲۳)

اسحاق بن راہویہ (جزء رفع الیدین:۱، معرفۃ السنن والآثار للبیہقی، قلمی ج۱ص ۲۲۵)

ابن المبارک (تاویل مختلف الحدیث لابن قتیبہ ص ۶۶ وسندہ صحیح)

یحییٰ بن معین (جزء رفع الیدین:۱۲۱)

اور حمیدی (جزء رفع الیدین:۱) وغیرہم رحمہم اللہ اجمعین

ان دلائلِ مذکورہ سے ثابت ہوا کہ رفع یدین کو منسوخ یا متروک یا غیر اولیٰ کہنا باطل ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ کا عام اعلان ہے کہ کسی صحابی سے بھی رفع یدین کا نہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ دیکھئے جزء رفع الیدین (ح۴۰،۷۶، المجموع شرح المہذب للنووی ۳/ ۴۰۵)

اس موضوع پر تفصیلی تحقیق کے لئے امام بخاری رحمہ اللہ کی مشہور وثابت کتاب جزء رفع الیدین (بتحقیقی) اور راقم الحروف کی کتاب ’’نورالعینین فی اثبات مسئلۂ رفع الیدین‘‘ کا مطالعہ کریں۔

نبی کریم ﷺسے ترکِ رفع یدین ثابت نہیں ہے۔

رفع یدین کرنے والے کو ہر انگلی کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے یعنی ایک دفعہ رفع یدین پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ دیکھئے المعجم الکبیر للطبرانی (۱۷/ ۲۹۷ ح ۸۱۹ وسندہ حسن ومسند الہیثمی فی مجمع الزوائد ۲/ ۱۰۳) اور معرفۃ السنن والآثار للبیہقی (قلمی ۱/ ۲۲۵ عن اسحاق بن راہویہ وسندہ صحیح)

تنبیہ: شیخ ابو الحسن القابسی نے جس تیسری روایت کی طرف اشارہ کر کے اسے معلول قرار دیا ہے وہ غالباً صحیح بخاری (۲۴) وصحیح مسلم (۳۶) کی وہ حدیث ہے جس میں آیا ہے: ((دَعْہُ فَإِنَّ الْحَیَاءَ مِنَ الْإِیْمَانِ)) یہ حدیث موطأ امام مالک (روایۃ یحییٰ ۲؍۹۰۵ح ۱۷۴۴) میں موجود ہے اور قولِ راجح میں صحیح و غیر معلول ہے۔ والحمد للہ

سجدوں میں رفع الیدین کرنا کسی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے نور العینین (ص ۱۸۹)

تفصیل کے لئے دیکھئے الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم کی حدیث 59

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s