إِنَّ ھٰذَا القُرْآنَ أُنْزِلَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَحْرُفٍ فَاقْرءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ

یہ قرآن سات حرفوں (قراءتوں) پر نازل ہوا ہے لہٰذا اس میں سے جو میسر ہو پڑھو۔

1. قرآنِ مجید کے سات قراءتوں پر نازل ہونے والی حدیث متواتر ہے۔ (قطف الازہار:۶۰، نظم المتناثر:۱۹۷)

2. سات حرفوں (قراءتوں) سے مراد بعض الفاظ کی قراءت کا اختلاف ہے جس کی وضاحت کے لئے چند مثالیں درج ذیل ہیں:

مثال اول:

قاری عاصم بن ابی النجود الکوفی وغیرہ نے ﴿ مَالِکِ یَوْمِ الدِّ یْنِ﴾ پڑھا۔

جب کہ قاری نافع بن عبدالرحمن بن ابی نعیم المدنی نے ﴿مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ﴾ پڑھا۔

پہلی قراءت برصغیر وغیرہ میں متواتر ہے اور دوسری قراءت افریقہ وغیرہ میں متواتر ہے۔

مثال دوم:

قاری حفص بن سلیمان الاسدی (عن عاصم بن ابی النجود) نے ﴿فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّلَا نَصْرًا﴾ پڑھا۔ (دیکھئے سورۃ الفرقان:۱۹)

جب کہ قاری نافع المدنی نے ﴿فَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّلَا نَصْرًا﴾ پڑھا ۔ دیکھئے قرآن مجید (روایۃ قالون ص ۳۰۹، روایۃ ورش ص ۲۹۳)

مثال سوم:

قاری عاصم، قاری قالون اور دیگر قاریوں نے ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ پڑھا۔

جبکہ قاری ورش کی قراءت میں ﴿قُلَ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ ہے۔

دیکھئے قرآن مجید (قراءۃ ورش ص ۷۱۲ مطبوعۃ الجزائر، دوسرا نسخہ، مطبوعۃ مصر)

3. اگر کوئی آدمی قرآن و حدیث سے ثابت شدہ دو مسئلوں میں سے ایک مسئلے پر عمل کر رہا ہے اور دوسرا آدمی دوسرے ثابت شدہ مسئلے پر عمل کر رہا ہے تو دونوں کو ایک دوسرے کا سختی سے رد نہیں کرنا چاہئے تاہم تحقیق کے لئے ہر وقت راستے کھلے ہوئے ہیں ۔ والحمدللہ

4. اگر ایک آدمی دوسرے بھائی کو اجتہادی غلطی کا مرتکب سمجھتا ہے تو مناسب وقت کا انتخاب کرکے نرمی اور دلائل کے ساتھ رد کرنا چاہئے۔

5. قرآنِ مجید سات قراءتوں پر پڑھنا جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اپنے علاقے کی مشہور قراءت میں پڑھا جائے تاکہ عوام الناس غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔

6. سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی قبر کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں اور نور سے بھر دے کہ انھوں نے مسلمانوں کو ایک مصحف (قرآن) کے رسم الخط پر جمع کر دیا جس میں دوسری قراء تیں پرو دی گئی ہیں۔

تفصیل کے لئے دیکھئے الاتحاف الباسم فی تحقیق موطأ الإمام مالک روایۃ عبدالرحمٰن بن القاسم حدیث ۴۷ اور اس کا تفقہ

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s