حدیث کے مقابلے میں ’’اگر مگر‘‘ نہیں ہے

ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حجرِ اسود کو چومنے کا پوچھا۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ اس کو ہاتھ لگاتے اور چومتے تھے۔ اس شخص نے کہا: بھلا بتائیں! اگر ہجوم ہو یا عاجز ہو جاؤں تو کیا کروں؟ انھوں نے کہا :یہ اگر مگر یمن میں جاکر رکھو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ حجراسود کو ہاتھ لگا تے اور چومتے تھے۔ (صحیح بخاری کتاب الحج باب تقبیل الحجر 3/373ح1611)

ایک دفعہ آپ سے وتر کا مسئلہ پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا :وتر رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ پوچھنے والے نے کچھ کہنا چاہا: أرایت أرایت (یعنی اگر مگر) تو آپ نے فرمایا: اپنی اس اگر مگر کو اُس ستارے پر ر کھو۔ آپ نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: رات کی نماز دو رکعت ہے اور وتر رات کی آخری ایک رکعت ہوتی ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی 12/264، و اسنادہ حسن)

آپ کی اس سختی کی وجہ سے ان لوگوں کے منہ بند ہو گئے جو فرضی مسائل اور موشگافیوں میں سر گرداں تھے۔

دیکھئے مقالات ج 1 ص 329 اور ماہنامہ الحدیث 4 ص 26

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s