حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، بحیثیت ایک باپ

یہ محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے سب سے چھوٹے بیٹے حافظ معاذعلی زئی کی تحریر ہے، جو کہ ماہنامہ الحدیث شمارہ 115 صفحہ 42 پر شائع ہوئی تھی۔

میرے والد محترم جنھیں دنیا محقق دوراں، ذہبی زماں، محدث العصر اور شیخ الاسلام کے طور پر جانتی ہے بحیثیت ایک باپ بڑے ہی نفیس، شفیق اور محبت وشفقت کرنے والے انسان تھے۔ وہ اپنی اولاد سے ہی کیا نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چلتے ہوئے ہر بچے کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آتے اور علمی مصروفیت کے باوجود پوری توجہ دیتے اور اکثر چھوٹے بچوں کو اٹھابھی لیتے تھے۔

ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: آپ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں، ہم تو نہیں لیتے۔ آپ نے فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری:۵۹۹۸، صحیح مسلم:۲۳۱۷)

والد محترم یقینا ان لوگوں میں سے تھے جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے رحم سے بھر دیاہے۔ آپ کے جیب اور کمرے میں عموماً ٹافیاں وغیرہ ہوتیں جو آپ بچوں میں تقسیم کرتے رہتے تھے۔

آپ کا زیادہ وقت تحقیق اور مطالعہ میں گزرا۔علمی اور تحقیقی مصروفیات کی وجہ سے عام طور پر آپ صرف کھانے کے اوقات میں ہی گھر جایا کرتے تھے۔ وہ اول وقت کے طعام کو ترجیح دیتے تھے۔ ہر کام وقت پر کرنا اُن کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک اہم وصف تھا۔

اپنے تمام بچوں سے وہ بہت زیادہ محبت کرتے تھے تاہم وہ دین کے معاملے میں بہت سخت تھے۔ پیار ومحبت کے باوجودآپ دینی وشرعی معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے۔ہمیں توحید وسنت پر قائم رہنے اور نیک صالح اعمال کرنے کی تلقین کرتے رہتے تھے۔

جب بچوں میں جھگڑا ہوتا تو کہتے کہ گواہوں کو پیش کرو۔ آپ کی ان باتوں سے ہم بڑے حیران ہوتے تھے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے جھگڑا خود ہی رفع دفع ہو جاتا۔ کوئی بچہ سوچے سمجھے بغیر کسی دوسرے پر الزام نہیں لگا سکتا تھا۔

آپ سبزی بالخصوص کدو اور شلجم بہت پسند کرتے تھے۔ گوشت ان کی پسندیدہ خوراک تھی۔ آپ ثرید بنا کر یعنی چُوری کر کے کھانا کھایا کرتے تھے کیونکہ اسے نبی کریم ﷺ نے افضل ترین غذا قرار دیا ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (۵۴۱۸) وغیرہ۔

اگر کوئی بچہ کھانے کی پلیٹ کو مکمل صاف نہ کرتا تو آپ سب سے پہلے اُس پلیٹ کو صاف کرتے تھے۔آپ کے اس عمل سے ہماری اصلاح ہوجاتی اور ہم آیندہ کے لئے محتاط ہوجاتے تھے۔ اپنے عمل کے ذریعے سے بچوں کی بہترین تربیت بڑا کارگر ذریعہ ہے جسے آپ کبھی نظر انداز نہیں کرتے تھے۔

اگر کبھی روٹی قدرے جل جاتی تو آپ اسے خود کھالیتے اور فرماتے کہ میں نہیں چاہتا میرے بچے جلی ہوئی روٹی کھائیں۔

تندوری روٹی انھیں بہت پسند تھی۔

کھیرے آپ کی فریج میں ہر وقت موجود رہتے۔ فروٹوں میں خربوزہ انھیں سب سے زیادہ پسند تھا۔

گرمیوں میں تقریباً روزانہ آم لے آتے اور گھر کے صحن میں رات کو کھلے آسمان تلے سب گھر والوں کے ساتھ کھاتے۔ دادا ابو بھی ساتھ موجود ہوتے تھے۔اس دوران میں آپ داداابو کے ساتھ سیاست پر ہلکا پھلکا تبصرہ بھی کرتے تھے۔

بچوں میں مجھ (معاذ) سے وہ سب سے زیادہ بے تکلف تھے۔ وہ ہر بات میں میری رائے ضرور لیتے۔ زیادہ تر اردو اور انگلش کے الفاظ کی جانچ مجھ سے کرواتے، باوجودیکہ وہ انگلش اور اردو میں انتہائی زیادہ مہارت رکھتے تھے۔اس میں آپ کا مقصود میری حوصلہ افزائی ہی تھا۔

میں اگر کسی چیز کا مشورہ دیتا تو فوراً قبول کر لیتے۔

مجھے کسی بات پر کبھی مجبور نہیں کیا اورمیری پسند کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتے تھے۔

آپ مجھے کہا کرتے تھے کہ پڑھائی زیادہ ضروری ہے۔ پہلی کلا س سے لے کر گریجوایشن تک ہر امتحان کے بعد میرے نمبر اور پیپرخود چیک کرتے اور وہ ہمیشہ یہ جملہ کہا کرتے تھے: ’’معاذ فیل ہوتے ہوتے رہ گیاہے‘‘۔ وہ دوسرے بچوں پر بھی ایسا ہی تبصرہ کرتے تھے۔

گریجوایشن کے بعد مجھے کئی بار کہا کہ یونیورسٹی میں داخلہ لے لوں۔ وہ ٹائم ضائع کرنے کے سخت مخالف تھے۔

تعلیم کے معاملے میں وہ مجھے اور تمام بچوں کو مکمل سپورٹ کرتے تھے۔ وہ ہر بچے کی تعلیم کے قائل تھے اور کسی میں تفریق نہیں رکھتے تھے۔

میں نے والد محترم کے قائم کردہ مدرسہ میں ہی مکمل قرآن حفظ کیا ہے۔ ایف ایس سی کے بعد آپ کی شدید خواہش تھی میں کسی جامعہ میں باقاعدہ درس نظامی کروں اور وفاق المدارس السلفیہ کے امتحانات بھی پاس کروں، چنانچہ اسی غرض سے آپ نے مجھے لاہور بھی بھیجا تھا، لیکن شومئی قسمت کہ میں کسی وجہ سے وہاں نہ پڑھ سکا، لیکن جب واپس آیا تو آپ نے اس کا بہترین حل یہ سوچا کہ مجھے خود پڑھانا شروع کردیا اور ساتھ ہی مدرسے کے مختلف اساتذہ کے سپرد کردیا جس کے نتیجے میں وفاق المدارس السلفیہ (خاصہ) تک ممتاز حیثیت میں پاس کرچکا ہوں اور اپنی یہ تعلیم جاری رکھنے کے لئے پُر عزم بھی ہوں۔ (ان شاء اللہ)

میں نے کئی دفعہ اُن کے ساتھ سفر کیا ہے، اگرچہ ان کے تمام اسفار علمی نوعیت ہی کے ہوتے تھے لیکن میرا سب سے یادگار سفر لاہور کا تھا، جب میں تقریباًبارہ (۱۲) سال کا تھا۔ وہ دس دن کے دورے پر مجھے ساتھ لے گئے تھے۔ ہم لاہور میں مولانا مفتی مبشر احمد ربانی کے پاس رہے۔وہاں سے واپسی پر دریائے جہلم میں بھی ہم نے کشتی میں سفر کیا۔ وہاں مقامی علماء بھی ہمارے ساتھ تھے۔ پھر وہاں سے آزاد کشمیر گئے۔ آزاد کشمیر میں انھیں ایک مجاہد نے اپنی AK-47 چلانا سکھائی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ اس کی شہادت کے لئے دعا کریں۔واپسی پر مری کے خطرناک موڑوں سے ہوتے ہوئے ہم حضرو پہنچے۔ وہ کافی یادگار سفر تھا۔

راستے میں مجھے ہر جگہ کے بارے میں بتاتے ۔مجھے ان کے ساتھ اکیلے سفر کرنا بہت پسند تھا۔

وہ ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر سمجھاتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سکول جاتے ہوئے یا واپسی پر کسی سے بھی کوئی چیز لے کر نہیں کھانی۔ سخت گرمیوں میں دوپہر کو اکیلا گھر سے باہر نکلنے سے منع فرماتے تھے۔ ساری زندگی ہمیں کبھی شام کی نماز کے بعد گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ وہ ہر روز شام کی نماز کے بعد تمام بچوں کی گھر میں موجودگی کو چیک کرتے تھے۔

میں نے جب موٹر سائیکل چلانا سیکھا تو بار بار مجھے کہا کرتے تھے کہ آہستہ چلایا کرو۔ جلدی کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ حضرو کے اڈہ کے قریب جو موڑ ہے وہاں آہستگی سے دیکھ کر کراس کرنا، وہ کافی خطرناک موڑ ہے۔لوگوں کے بارے میں وہ تبصرہ کرتے تھے کہ ’’لوگ اندھا دھند موٹرسائیکل چلاتے ہیں‘‘۔

اُن کی یہ خواہش بھی تھی کہ میں گاڑی چلانا سیکھ لوں۔ انھوں نے سیکھنے کے بارے میں مجھے کئی بار کہا تھا۔ میں نے گاڑی چلانا اُن کی زندگی کے آخری ایام میں ہی سیکھ لیا تھا مگر افسوس انھیں نہیں بتا سکاکیونکہ وہ سرگودھا چلے گئے تھے۔

مجھے اکیلا راولپنڈی، اسلام آباد یا لاہور سفر کرنے کی کبھی اجازت نہیں دی۔ ہمیشہ اپنے کسی شاگرد کو ساتھ بھیجتے تھے اور راستے میں تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ٹیلی فون کر کے لوکیشن معلوم کرتے۔ واپسی پر اُس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک میں گھر پہنچ کر انھیں اطلاع نہیں کر دیتا تھا۔

آپ انتہائی زیادہ محبت کرنے والے باپ تھے۔

ہمیں ابو نے بڑوں کا ادب کرنا سکھایا تھا۔ لوگ ہمیں شرمیلا کہا کرتے تھے مگر حقیقت میں بڑوں کا ادب، اورلغویات و فضولیات سے اجتناب ہوتا تھا۔

پورے گاؤں میں ہماراواحد گھرانہ تھا جہاں خاندان کا کوئی دس سال سے بڑا لڑکا داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ ہمارے خاندان میں یہ رواج تھا کہ لوگ بغیر پردہ کے ہر گھر میں چلے جایا کرتے تھے لیکن والدمحترم نے اس سلسلے میں ہمیشہ شرعی احکام پر سختی سے عمل کیا اور کروایا، رسم ورواج اور لوگوں کی باتوں کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کی۔

اگر کسی شادی میں غیر شرعی امور ہوتے مثلاً گانے باجے وغیرہ توہمیں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

اگر کسی کی وفات ہو جاتی اور جمعرات کو غیر اسلامی وبدعی امور کے چاول وغیرہ دینے کوئی آتا تو گھر کے باہر سے ہی وہ لوٹا دیئے جاتے ہیں۔

میرا زیادہ تر وقت ابو کے پاس لائبریری میں گزرا ہے، جہاں میں ان کی نگرانی میں انٹرنیٹ استعمال کرتا تھا۔ آپ جانتے تھے کہ مجھے زیادہ کمپیوٹر کا شوق ہے پھر بھی جب وہ کوئی نئی کتاب (یا کتابیں) لاتے تو مجھے اکثر اوقات خود آکر بتاتے اور دکھاتے تھے۔

میں نے انٹرنیٹ سے اُن کے لئے کافی کتابیں ڈاون لوڈ کی تھیں۔ وہ مجھے ساتھ ساتھ بتا دیا کرتے تھے کہ کس کتاب کی انھیں سخت ضرورت ہے اور کیوں؟

تنبیہ:

وہ کمپیوٹر پر سافٹ ویئر یا کتب کو صرف جلدی حوالہ تلاش کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ مگر انھوں نے کمپیوٹر پر کبھی بھروسا نہیں کیا۔ وہ ہمیں لائبریری سے کتابیں نکال کر حوالے دکھاتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’مکتبہ شاملہ‘‘ قابلِ بھروسا نہیں ہے۔ اس میں کافی غلط حوالے ہیں جو شاید کمپوزنگ کی غلطی کی وجہ سے رہ گئے تھے۔

ان کے دن کی روٹین کچھ اس طرح تھی:

1. وہ اکثر اوقات سحری کو (تقریباً ڈھائی تین بجے) اُٹھ جایا کرتے تھے اور نماز تہجد کے بعد تحقیق شروع کر دیتے تھے۔

2. اگر طبیعت بوجھل ہوتی تو نماز کے بعد تھوڑا سو جاتے تھے۔تاہم زیادہ تر وہ تحقیق جاری رکھتے تھے۔

3. سردیوں میں عموماً سورج طلوع کے وقت ناشتہ کرتے تھے۔

4. ناشتے کے بعد اکثر اوقات کمپیوٹر پرکمپوزر سے خود غلطیاں لگواتے تھے۔

5. گیارہ بجے دوپہر کے کھانے کے لئے گھر چلے جاتے تھے۔

6. کھانے کے بعدکبھی کبھارظہر کی نماز تک آرام کرتے تھے۔ جسے ’’قیلولہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

7. دوپہر کے بعد اکثر اوقات تحقیق کرتے تھے۔

8. عصر کی نماز کے بعد بھی تحقیق جاری رکھتے تھے۔ تاہم اکثر اوقات مغرب کی نماز سے تقریباً گھنٹہ پہلے ضرورت کی اشیاء کے لئے بازار چلے جاتے یا حافظ شیر محمدحفظہ اللہ کے ساتھ سیر کو نکل جاتے تھے۔

8. مغرب کی نماز کے فوراً بعد شام کا کھانا کھاتے تھے۔ کھانے کے بعد لائبریری میں چلے جاتے اور اس دوران میں وہ مطالعہ کرتے تھے یا کبھی خطوط کے جوابات دیتے تھے۔

10. عشاء کی نماز کے بعد بھی اکثر اوقات مطالعہ جاری رکھتے۔ تاہم وہ جلد ہی سو جاتے تھے اور نماز عشاء کے بعد دیر تک جاگنے اور بات چیت کو ناپسند کرتے تھے۔

مغرب کی نماز کے بعد کسی کو بھی لائبریری میں داخلے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ یہ وقت مطالعہ کے لئے خاص تھا اور آپ بڑے اہتمام سے مطالعہ کرتے تھے۔

جب کمپوزر موجود نہ ہوتا تو وہ مجھے مضامین کی سیٹنگ کرنے کے لئے بلا لیتے تھے۔

ہماری کوئی ایسی جائز خواہش نہیں تھی جو انھوں نے پوری نہ کی ہو (بشرطیکہ وہ ان کے بس میں ہو)۔

وہ گھر میں کسی قسم کی رسم کے قائل نہیں تھے۔

مدرسہ کا ایک روپیہ بھی اپنے اوپر یا بچوں پر استعمال کرنا حرام سمجھتے تھے۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے، مگر ایک اٹل ترین حقیقت ہے جس کے کئی گواہ ہیں۔

مجھے کبھی اجازت نہیں تھی کہ لائبریری سے چھوٹی سی USB کی تار گھر لے جاؤں۔ وہ کہا کرتے تھے، اگر ضرورت ہے تو مجھ سے رقم لے لو اور بازار سے نئی لے آؤ۔

لائبریری سے کتب لے جانے کی اجازت کسی کو نہیں تھی۔تاہم مجھے کبھی انھوں نے منع نہیں کیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے ’’معاذ میری ہر چیز استعمال کر سکتا ہے چاہے وہ فروٹ ہوں یا کوئی بھی ذاتی استعمال کی چیز‘‘۔

میں نے زندگی میں کبھی جیب خرچ کی تنگی محسوس نہیں کی۔ وہ ہر مہینے خود ہی بچوں کو استعمال کے لئے رقم دیتے تھے۔ البتہ ہم انھیں صحیح اوراحتیاط سے استعمال کرتے تھے۔یہ اُن کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ ہم بُرے لوگوں اور بُرے کاموں سے ہمیشہ دُور رہے۔ والحمدللہ

ہمیں اُن پر فخر تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

بحیثیت باپ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ایک عظیم ترین انسان تھے۔

اللّٰہم اغفرلہ وارحمہ۔ رب ارحمھما کما ربینی صغیرًا

اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ 115 صفحہ 42 تا 48

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s