یہ سوال بدعت ہے کہ نماز میں کتنے فرائض، واجبات اور کتنی سنتیں ہیں؟

(امام) اسحاق (بن راہویہ رحمہ اللہ) سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک نماز میں واجبات کیا ہیں؟ اور وہ کون سے امور ہیں جو نماز میں ضروری (فرض) ہیں؟

تو انھوں نے جواب دیا:

تو نے واجباتِ نماز کے بارے میں پوچھا ہے کہ وہ کیا ہیں؟

تو (سن لو کہ) نماز ساری، شروع سے لے کر آخر تک واجب ہے۔

جو لوگ دوسرے لوگوں سے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ’’نماز میں یہ سنت ہے اور یہ فرض ہے‘‘ ان لوگوں کی یہ بات غلط ہے۔

کیونکہ رسول الله ﷺ نے جب لوگوں کو اقامتِ نماز سکھائی تو اس میں سنتیں سکھا دیں جو ہم اور یہ لوگ اس میں پڑھتے ہیں۔

جس طرح رکوع میں تین یا زیادہ مرتبہ تسبیح (سبحان ربی العظیم) ہے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی آدمی یہ کہنے لگے کہ جس نے ایک یا دو دفعہ تسبیح کہی تو اس کی نماز فاسد ہے۔ کیونکہ اس نے رکوع میں تسبیح پڑھ لی ہے۔

اسی طرح اگر تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ اگر دوسری تکبیر بھول جائے تو اس کی نماز فاسد ہے، وغیرہ وغیرہ۔

بے شک ہمیں معلوم ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے نمازیوں کو کچھ چیزیں بتا دی ہیں تا کہ وہ ان پرعمل کریں، جوشخص انھیں سہواً ترک کر دے تو نماز کا اعادہ نہیں کرے گا۔

نبی ﷺ تشهد اولیٰ وغیرہ بھول گئے مگر نماز کا اعادہ نہیں کیا۔

لیکن کسی آدمی کے لئے یہ جائز نہیں ہے وہ نماز کے حصے بنا دے اور کہے کہ نماز کے اتنے فرض ہیں اور اتنی سنتیں ہیں، بے شک یہ بات بدعت ہے۔

دیکھئے مسائل الامام احمد بن حنبل و اسحاق بن راہویہ / روایۃ اسحاق بن منصور الکوسج 1 / 132-133 ت 189

انتخاب: ابو ثاقب محمد صفدر حضروی

یہ مضمون لیا گیا ہے: ماہنامہ الحدیث شمارہ 13 کا اِن ٹائٹل

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s