سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اندھا دھند محبت کرنے والے یا بغض رکھنے والے، دونوں…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بارے میں خوب فرمایا ہے کہ’’میرے بارے میں دو (قسم کے) شخص ہلاک ہو جائیں گے:

1. غالی (اور محبت میں ناجائز) افراط کرنے والا، اور

2. بغض کرنے والا حجت باز ‘‘

(فضائل الصحابۃ للامام احمد ۲/ ۵۷۱ ح ۹۶۴ واسنادہ حسن، ماہنامہ الحدیث: ۴ص ۱۵)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ ’’ایک قوم (لوگوں کی جماعت) میرے ساتھ (اندھا دھند) محبت کرے گی حتی کہ وہ میری (افراط والی) محبت کی وجہ سے (جہنم کی) آگ میں داخل ہوگی اور ایک قوم میرے ساتھ بغض رکھے گی حتی کہ وہ میرے بغض کی وجہ سے (جہنم کی) آگ میں داخل ہوگی‘‘۔

(فضائل الصحابۃ ۲/ ۵۶۵ ح ۹۵۲ وإسنادہ صحیح، وکتاب السنۃ لابن ابی عاصم:۹۸۳ وسندہ صحیح، ماہنامہ الحدیث: ۴ ص ۵ا)

چونکہ ان دونوں اقوال کا تعلق غیب سے ہے لہٰذا یہ دونوں اقوال حکماً مرفوع ہیں، یعنی رسول اللہ ﷺنے علی رضی اللہ عنہ کو یہ باتیں بتائی ہوں گی۔ واللہ اعلم

معلوم ہوا کہ دو قسم کے گروہ ہلاک ہو جائیں گے:

1. سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اندھا دھند محبت کر کے آپ کو خدا، مشکل کشا اور حاجت روا وغیرہ سمجھنے والے یا دوسرے صحابۂ کرام کو برا کہنے والے لوگ مثلاً غالی قسم کے روافض وغیرہ۔

2. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے لوگ مثلاً خوارج ونواصب وغیرہ۔

تنبیہ: حکیم فیض عالم صدیقی (ناصبی) وغیرہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں جو گستاخیاں کی ہیں ان سے تمام اہل حدیث بری الذمہ ہیں۔ اہل حدیث کا ناصبیوں اور رافضیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اہل حدیث کا راستہ کتاب وسنت والا راستہ ہے اور یہی اہل سنت ہیں۔

تفصیلی مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ ۱۷ صفحہ ۴۸

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s