جنت والدین کے قدموں کے نیچے ہے

(سیدنا) معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میرے باپ (سیدنا) جاہمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں جہاد میں جانے کا ارادہ رکھتا ہوں اور آپ سے مشورہ لینے آیا ہوں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تیری ماں ہے؟‘‘ (یعنی زندہ ہے؟)

اس نے کہا: ہاں۔

آپ ﷺ نے فرمایا :’’پس اس کو لازم پکڑ (یعنی اس کی خدمت کر)بے شک جنت اس کے پاؤں کے پاس ہے۔‘‘

([حسن صحیح] النسائی، کتاب الجہاد، باب الرخصۃ فی التخلف لمن لہ والدۃ:۳۱۰۴ [۳۱۰۶ بلفظ:تحت رجلیھا])

(سیدنا) جاہمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جہاد کرنے کا مشورہ طلب کرنے آیا تو نبی ﷺنے پوچھا:کیا تیرے والدین ہیں؟ میں نے کہا:ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’انھیں لازم پکڑ کیونکہ جنت ان دونوں کے پاؤں تلے ہے‘‘۔

([صحیح] المعجم الکبیر للطبرانی جلد۲ ص۲۸۹ رقم (۲۲۰۲) وقال فی المجمع (۱۳۸/۸) رواہ الطبرانی فی الاوسط ورجالہ ثقات)

فائدہ:

والدین کے قدموں کے نیچے جنت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اُن کی اطاعت اور فرمانبرداری سے اللہ انسان کو جنت عطا فرماتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ شاید بیوی کے قدموں کے نیچے جنت ہے اور وہ بیوی کو خوش رکھنے کے لئے سب کو ناراض کر دیتے ہیں حتی کہ ماں باپ کی پروا نہیں کرتے۔

ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ والدین کے حقوق بیوی سے مقدم ہیں۔

(والدین اور اولاد کے حقوق ص۱۵۔۱۶، ملخصاًمع تصرف یسیر)

تحریر: جاوید اقبال سیالکوٹی

شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 102 لاسٹ اِن ٹائٹل

 

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s