اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں علمائے حق کی محبت بھر دے

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجے، اللہ بلند فرمائے گا۔ (المجادلۃ:۱۱)

معلوم ہوا کہ اہل ایمان علماء (علمائے حق) کو عام مومنین ومسلمین پر برتری و فضیلت حاصل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ سے اس کے بندوں میں صرف علماء ہی (سب سے زیادہ) ڈرتے ہیں۔ (فاطر:۲۸)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کتاب (قرآن) کے (علم و عمل کے) ساتھ، اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو (فضیلت کے ساتھ) اٹھائے گا اور کچھ کو گرا دے گا۔ (صحیح مسلم:۲۶۹/ ۸۱۷ وترقیم دار السلام:۱۸۹۷)

آپ ﷺنے فرمایا: جس طرح مجھے تم لوگوں پر فضیلت حاصل ہے، اسی طرح (ہر) عالم کو (ہر) عابد پر فضیلت حاصل ہے۔ (سنن الترمذی ح:۲۶۸۵ وقال: ’’حسن غریب صحیح‘‘، أضواء المصابیح:۲۱۳ وقال:اسنادہ حسن)

نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: جو شخص ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے (اہلِ حق) عالم کا حق نہ پہچانے، وہ ہم میں (اہل حق میں) سے نہیں ہے۔ (مشکل الآثار للطحاوی: ۲/ ۱۳۳ ح ۱۸۰ وسندہ حسن)

آ پ ﷺ کا ارشاد ہے: ((البرکۃ مع أکابرکم))برکت تمھارے اکابر کے ساتھ ہے۔ (المستدرک للحاکم ۱/ ۶۲ح ۲۱۰، واتحاف المھرۃ ۷/ ۶۰۱ح ۸۵۶۳، وشعب الایمان : ۱۱۰۰۵، وسندہ صحیح)

ان دلائل سے معلوم ہوا کہ اہل حق (اہل سنت:اہل حدیث) علماء کو عام مسلمانوں پر فضیلت حاصل ہے، لہٰذا ان کا احترام کرنا ضروری ہے۔

طاؤس تابعی فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ چار آدمیوں کی عزت واحترام (خاص طور پر) کرنا چاہئے: (۱) عالم (۲) عمر رسیدہ بزرگ (۳) حاکم (۴) اور والد۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ظلم (اور گناہ) میں سے ہے کہ بیٹا اپنے باپ کا نام لے کر پکارے۔ (مصنف عبد الرزاق ۱۱/ ۱۳۷ح ۲۱۰۳۳ وسندہ صحیح)

صحابۂ کرام نبی ﷺ کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے، وہ آپ کے سامنے اس طرح بیٹھتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ (سنن ابی داود:۳۸۵۵ وإسنادہ صحیح، وصححہ الترمذی:۲۰۳۸ والحاکم ۴/ ۳۹۹ ووافقہ الذہبی)

قاضی فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’عالم عامل معلم یدعٰی کبیرًا في ملکوت السمٰوات‘‘ عالم باعمل،معلم آسمانوں کی مملکت میں بڑا سمجھا جاتا ہے۔ (الترمذی:۲۶۸۵ وسندہ صحیح)

درج بالا و دیگر نصوص شرعیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کے لئے چنداہم باتیں پیش خدمت ہیں:

1. ہر عامی لاعلم پر ضروری ہے کہ وہ صحیح العقیدہ علمائے حق میں سے، عالم باعمل کا انتخاب کر کے، اس کے پاس جائے اور مسئلہ پوچھے۔

2. علمائے سوء سے بچنا واجب ہے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ((من وقر صاحب بدعۃ فقد أعان علٰی ھدم الإسلام)) جس نے کسی بدعتی کی تعظیم (وعزت) کی تو اس نے اسلام کے گرانے میں مدد کی۔ (کتاب الشریعہ للآجری ص ۹۶۲ ح۲۰۴۰ سندہ صحیح)

سیدنا عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:تم ایسے زما نے میں ہو کہ (جمعہ کی) نمازلمبی اور خطبہ چھوٹا (مختصر) ہوتاہے، علماء زیادہ ہیں اور (قصہ گو) خطیب حضرات کم ہیں اور تجھ پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ (جمعہ کی) نماز مختصر اور خطبہ لمبا ہو گا، (قصہ گو) خطیب حضرات زیادہ ہوں گے اور (حقیقی) علماء کم ہوں گے….الخ (المعجم الکبیر للطبرانی ج ۹ ص ۱۱۳ ح ۸۵۶۷ وسندہ صحیح)

3. عالم سے انتہائی احترام اور ادب سے سوال کیا جائے کہ کتاب وسنت اور دلیل سے جواب دیں۔

4. عالم کا نام لے کر پکارنے کے بجائے ’’شیخ صاحب‘‘ وغیرہ کے الفاظِ ادب استعمال کئے جائیں ۔یحییٰ بن یعمر (تابعی) نے جب سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مسئلہ پوچھاتھا توفرمایا: ’’یاأبا عبد الرحمٰن‘‘ اے ابو عبد الرحمن۔ (صحیح مسلم:۹۳/۸)

یعنی آپ کانام لینے سے اجتناب کیا۔

5. عالم کے سامنے ہنسنے، آنکھ مارنے اور شور مچانے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

عبد الرحمن بن مہدی کی مجلس میں ایک آدمی ہنس پڑا تو انھوں نے فرمایا: ’’لا حدثتکم شھراً‘‘ میں تمھیں ایک مہینہ حدیثیں نہیں سناؤں گا۔ ( الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع للخطیب ج۱ ص۱۹۳ ح۳۲۵ وسندہ صحیح)

6. علمائے حق رسول اللہ ﷺ کے صحیح وارث اور اولیاء اللہ ہیں۔

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وأن العلماء ھم ورثۃ الأنبیاء، ورثوا العلم‘‘ اور بے شک علماء: انبیاء کے وارث ہیں، انھوں نے علم کا ورثہ پایا ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم باب۱۰قبل ح۶۸)

7. علمائے حق سے دشمنی اور بغض نہیں رکھنا چاہئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((إن اللہ قال: من عادیٰ لي ولیاً فقد آذنتہ بالحرب)) بے شک اللہ نے فرمایا: جس شخص نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی رکھی تو میں اس شخص کے خلاف اعلان ِ جنگ کرتا ہوں۔ (صحیح البخاری:۶۵۰۲)

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چار آدمیوں سے علم حاصل نہیں کرنا چاہئے: (۱) بے وقوف، جس کی بے وقوفی علانیہ ہو (۲) کذاب (۳) بدعتی جو اپنی بدعت کی طرف دعوت دیتاہو (۴) نیک آدمی جسے حدیث کا کچھ بھی پتا نہ ہو۔ (کتاب الضعفاء للعقیلی ۱/ ۱۳ وسندہ صحیح)

آخر میں دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں علمائے حق کی محبت بھر دے۔ آمین

اصل مضمون کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ ۴ صفحہ ۴۵

جواب دیں

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s