سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بے شک اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے دونوں بھائیوں کے درمیان صلح کرادو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اُڑا ئے، ہوسکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں اور عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق نہ اُڑائیں، ہوسکتا کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ تم ایک دوسرے پر عیب نہ لگا ؤ اور نہ بُرے القاب سے کسی کو پکارو۔ ایمان لانے کے بعد فاسق ہونا بہت بُرا نام ہے اور جو لوگ تو بہ نہیں کریں گے تو وہی ظالم ہیں۔

اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے دُور رہو، بے شک بعض بدگمانیاں گناہ ہیں۔ ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو اورایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم تو اُسے بُرا سمجھتے ہو! اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تو بہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور مختلف قومیں اور قبیلے بنا دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اللہ کے دربار میں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے، بے شک اللہ جاننے والا (اور ہر چیز سے) باخبر ہے۔ (سورۃ الحجرات:۱۰۔۱۳)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ظلم ہونے دیتا ہے۔ جو آدمی اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے گا تو اللہ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو کسی مسلمان (بھائی) کی مصیبت دُور کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کی مصیبتوں میں سے اُس کی مصیبت دُور کرے گا۔ جس نے اپنے بھائی کی پردہ پوشی کی تو اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (صحیح بخاری: ۲۴۴۲، صحیح مسلم: ۲۵۸۰)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور آپس میں حسدنہ کرو اور ایک دوسرے کی طرف (ناراضی سے) پیٹھ نہ پھیرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔ کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ بائیکاٹ کرے۔ (موطأ امام مالک روایۃ ابن القاسم بتحقیقی: ۴، صحیح بخاری:۶۰۷۶، صحیح مسلم: ۲۵۵۹)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے کے ساتھ محبت ، الفت اور رحم کرنے کی مثال ایک جسم کی طرح ہے، جب اس کا ایک عضو(حصہ) بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم اس کے لئے بخار اور بیداری کے ساتھ تکلیف میں رہتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۵۸۶ واللفظ لہ، صحیح بخاری: ۶۰۱۱)

ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اے (ساری دنیا کے) لوگو! سن لو تمھارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔سن لو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، سرخ کو کالے پر اور کالے کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں ہے سوائے تقویٰ کے، کیا میں نے نہیں پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ (ﷺ) نے پہنچا دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا دن (جمعہ) ہے۔ پھر آپ نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر آپ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرم ( مکہ) ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ نے تم پر تمھارے خون اور اموال حرام قرار دیئے ہیں۔ راوی نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے عزتوں کا بھی ذکر کیا تھا_ آج کے دن کی طرح اس (حُرمت والے) مہینے میں، اس (حرمت والے) شہر میں، کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ لوگو ں نے کہا: رسول اللہ (ﷺ) نے پہنچا دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: حاضر غائب تک پہنچا دے۔ (مسند احمد ۵/ ۴۱۱ ح ۲۳۴۸۹ وسندہ صحیح)

معلوم ہوا کہ دینِ اسلام میں عربی عجمی، کالے گورے، پٹھان پنجابی سندھی بلوچی، پاکستانی ہندوستانی اور ملکی غیر ملکی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں لیکن تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جو مسلمانوں کو فرقوں اور ٹکڑیوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔

تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

یہ مضمون شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 47 صفحہ نمبر 2 تا 3

Advertisements

اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی

وعن سفیان بن عبداللہ الثقفي ، قال: قلت: یارسول اللہ! قل لي في الإسلام قولاً لا أسال عنہ أحداً بعدک، وفي روایۃ: غیرک۔ قال: ’’قل آمنت باللہ، ثم استقم‘‘ رواہ مسلم

(سیدنا) سفیان بن عبداللہ الثقفی (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام میں ایسی (جامع) بات بتائیں کہ آپ کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ (ﷺ)نے فرمایا:کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر (اس پر) ثابت قدم ہو جاؤ۔ (مسلم: ۶۳/۳۸)

اس حدیث او ر دیگر دلائل سے ثابت ہے کہ دین اسلام کا اصل اور بنیادی رکن ایمان باللہ ہے۔ اللہ ہی معبود برحق، مشکل کشا، حاجت روا، فریاد رس، حاکم اعلی اور قانون ساز ہے۔ اس کی صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں، یہی وہ عقیدہ تو حید ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے۔

اس حدیث کی بعض سندوں میں یہ اضافہ ہے کہ:  سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بارے میں کس چیز کا آپ کو سب سے زیادہ خوف ہے؟ تو آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کرفرمایا: ’’یہ‘‘ یعنی اس زبان کا خوف سب سے زیادہ ہے۔ (سنن الترمذی: ۲۴۱۰ وقال: ھذا حدیث حسن صحیح، شعب الایمان للبیھقی: ۴۹۱۹ والزہری صرح بالسماع عندہ)

یاد رہے کہ توحید کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ آدمی ۔رسول اللہ ﷺ کی گستاخیاں شروع کر دے۔ آپ کے علم کو حیوانات ، پاگلوں اور بچوں کے علم سے تشبیہ دینے لگے۔ معاذ اللہ، ایساآدمی موحد نہیں بلکہ ملحد و زندیق ہے۔

توحید کا یہ لازمی نتیجہ اور رکن ہے کہ آدمی ۔رسول اللہ ﷺ پر بغیر افراط و تفریط کے صحیح ایمان لائے۔ آپ ﷺ سے والہانہ محبت اور پیار کرے۔ آپ کی گستاخی کے تصور اور خیال سے بھی بہت دور بھاگے۔ نہ تو آپ کو الٰہ معبود بنا دے اور نہ آپ کے مقام، فضیلت و درجات میں کسی قسم کی کمی کرے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ ﷺ کا مقام ہے۔ ہم سب آپ  ﷺ پر فدا ہوں۔ آمین

تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

اضواء المصابیح کا یہ مضمون شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 14 صفحہ نمبر 3 تا 4

تنبیہ: اصل مضمون طویل ہے۔ مکمل مضمون کے لئے یہاں کلک کریں۔

اظہار خوشی مگر کیسے؟

 

غم و خوشی، رونا و ہنسنا، مشکلات و راحت اور مختلف نشیب وفراز، زندگی کا حصہ ہیں،لیکن انسان فطرتی طور پر خوشی حاصل کرنے میں جلد باز واقع ہوا ہے ا وریہی عجلت پسندی اسے دنیا ومافیھا سے بے پروا کر دیتی ہے حالانکہ ’’دین اسلام‘‘ مکمل ضابطہ حیا ت ہے یہ دین جہاں حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی کا پابند بناتا ہے وہاں اظہار خوشی میں بھی ادخلو فی السلم کآفۃکا درس دیتا ہے۔

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ کو جب (بھی) مسرور کن معاملہ پیش آتا یا آپ (ﷺ) کو، کوئی خوش خبری دی جاتی تو فوراً اللہ تعالی کا بجالاتے ہوئے سجد ہ ریز ہو جاتے۔
(ابو داؤد: ۲۷۷۴، ابن ماجہ: ۱۳۹۴، ترمذی: ۵۷۸ وقال: ’’حسن غریب‘‘)

حقیقی مومن خوش کن حالات میں ایمان کا سودا کرتا ہے نہ غم کے موقع پر ہی ڈگمگاہٹ ( کمزوری) کا شکار ہوتاہے۔

ارشاد نبوی ﷺ ہے:
’’مومن آدمی کا بھی عجیب حال ہے کہ اس کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے اور یہ بات کسی کو حاصل نہیں سوائے اس مومن آدمی کے کہ اگر اسے کوئی خوشی پہنچی اور شکر ادا کیا تو بھی ثواب ہے اگر نقصان پہنچا اور صبر کیا تو بھی ثواب ہے۔‘‘ (صحیح مسلم : ۲۹۹۹)

یہی طرز عمل ہمارے اسلاف کا تھا۔

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قبولیتِ توبہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے خوشخبری کا ذکر کرتے ہیں کہ: ’’میں نے ایک پکارنے والے کی آوازسنی، جبل سلع پر چڑھ کر کوئی بلند آواز سے کہہ رہا تھا اے کعب بن مالک! تمہیں بشارت ہو یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا‘‘ (بخاری : ۴۴۱۸)

امام نووی فرماتے ہیں : یہ حدیث دلیل ہے کہ ہر نعمت کے حصول یا کسی مشکل سے چھٹکاے کے بعد سجدہ شکر مستحب ہے۔ (صحیح مسلم مع شرح نووی ۱۷ / ۹۰)

قارئین کرام : خوشی آزادی و شادی کی ہو یا میلاد النبی ﷺ کی مروجہ طریقہ کے مطابق اس کا جشن منانا قرآن وحدیث اور اسلامی شعار کے منافی ہے ۔اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

تحریر: الشیخ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ

یہ مضمون شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 4 صفحہ نمبر 4

 

چالیس (40) مسائل جو صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں

بہت سے مسائل میں سے صرف چالیس (40) ایسے مسائل پیشِ خدمت ہیں، جو ہمارے علم کے مطابق صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں:

۱: صحیح بخاری میں مسند متصل مرفوع احادیث کی دو قسمیں ہیں:
اول: جن کے صحیح ہونے پر اجماع ہے اور یہ روایات بہت زیادہ ہیں۔
دوم: جن پر اختلاف ہے، لیکن جمہور نے انھیں صحیح قرار دیا ہے اور یہ روایات بہت ہی کم ہیں۔

۲: صحیح مسلم میں مسند متصل مرفوع احادیث کی دو قسمیں ہیں:
اول: جن کے صحیح ہونے پر اجماع ہے اور یہ روایات بہت زیادہ ہیں۔
دوم: جن پر اختلاف ہے ، لیکن جمہور نے انھیں صحیح قرار دیا ہے اور یہ روایات بہت ہی کم ہیں۔

۳: نویں صدی ہجری کے غالی ماتریدی ابن ہمام (م ۸۶۱ھ) سے پہلے اس پر اجماع ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث کو دوسری کتابوں کی احادیث پر ترجیح حاصل ہے۔

۴: اس پر محدثین کا اجماع ہے کہ صحابۂ کرام کی مرسل روایات بھی صحیح ہیں۔

۵: اس پر اجماع ہے کہ کسی صحابی کو بھی مدلس کہنا غلط ہے۔

۶: اس اصول پر اجماع ہے کہ جو راوی کثیر التدلیس ہو اور ضعیف راویوں سے بھی تدلیس کرتا ہو، اس کی عن والی روایت حجت نہیں ہے۔

۷: اس پر اجماع ہے کہ قبر میں میت کا رُخ قبلے کی طرف ہونا چاہئے۔

۸: امام ترمذی کے دور میں اس پر اجماع تھا کہ بچے بچی کی ولادت پر اذان کہنی چاہئے۔

۹: سری نمازوں میں آمین بالسر کہنے پر اجماع ہے۔

۱۰: اس پر اجماع ہے کہ خلیفۃ المسلمین اپنے بعد کسی مستحق شخص کو بطورِ خلیفہ نامزد کر سکتا ہے۔

۱۱: اس پر اجماع ہے کہ دو سجدوں کے درمیان اپنی رانوں پر ہاتھ رکھنے چاہئیں ۔

۱۲: اس پر اجماع ہے کہ زکوٰۃ کے مسئلے میں بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا ہے۔

۱۳: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص قرآن مجید کو مخلوق کہے وہ شخص کافر ہے۔

۱۴: اس پر اہلِ سنت کا اجماع ہے کہ رمضان میں پورا مہینہ عشاء کی نماز کے بعد نمازِ تراویح با جماعت پڑھنا جائز اور باعثِ ثواب ہے۔

۱۵: اس پر اجماع ہے کہ نماز میں قہقہے (آواز کے ساتھ ہنسنے) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

۱۶: اس پر اجماع ہے کہ حالتِ نماز میں کھانا پینا منع ہے اور جو شخص فرض نماز میں جان بوجھ کر کچھ کھا پی لے تو اس پر نماز کا اعادہ فرض ہے۔

۱۷: اس پر اجماع ہے کہ نبیذ کے علاوہ تمام مشروبات مثلاً عرقِ گلاب، دودھ، سیون اپ اور شربتِ انار وغیرہ سے وضو کرنا جائز نہیں ہے۔
تنبیہ: نبید کے مسئلے پر بعض الناس کے اختلاف کے باوجود، راجح یہ ہے کہ نبیذ سے بھی وضو کرنا جائز نہیں ہے۔

۱۸: اس پر اجماع ہے کہ پانی کم ہو یا زیادہ، اگر اس میں نجاست گرنے سے اس کا رنگ، بُو یا ذائقہ تبدیل ہو جائے تو وہ پانی اس حالت میں نجس (ناپاک) ہے۔

۱۹: مصحف عثمانی کے رسم الخط پر اجماع ہے۔

۲۰: اس پر اجماع ہے کہ حج اور عمرہ ادا کرنے میں عورتوں پر حلق (سر منڈوانا) نہیں ہے، بلکہ وہ صرف قصر کریں گی یعنی تھوڑے سے بال کاٹیں گی۔

۲۱: اس پر اجماع ہے کہ ہر وہ حدیث صحیح ہے، جس میں پانچ شرطیں موجود ہوں:
(۱) ہر راوی عادل ہو (۲) ہر راوی ضابط ہو (۳) سند متصل ہو (۴) شاذ نہ ہو
(۵)معلول نہ ہو ۔

۲۲: اس پر اجماع ہے کہ ہر خطبۂ جمعہ میں سورۃ قٓ پڑھنا فرض، واجب یا ضروری نہیں بلکہ سنت اور بہتر ہے۔

۲۳: نکاح کے وقت خطبہ پڑھنے پر اجماع ہے۔

۲۴: اس پر اجماع ہے کہ گناہوں اور نافرمانی سے ایمان کم ہو جاتا ہے۔

۲۵: اس پر صحابہ و تابعین کاا جماع ہے کہ جرابوں پر مسح جائز ہے۔

۲۶: اس پر اجماع ہے کہ صحیح العقیدہ مسلمانوں کے لئے اہلِ حدیث اور اہلِ سنت کے القاب (صفاتی نام) جائز اور بالکل صحیح ہیں۔

۲۷: اس پر صحابہ کا اجماع ہے کہ تقلید ناجائز ہے۔

۲۸: اس پر اہلِ حق کا اجماع ہے کہ عقائد و ایمان میں بھی صحیح خبر واحد حجت ہے۔

۲۹: اس پر صحابہ و تابعین کا اجماع ہے کہ ضرورت کے وقت نابالغ قاری کی امامت جائز ہے۔

۳۰: اس پر اجماع ہے کہ گونگے مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے۔

۳۱: اس پر اجماع ہے کہ قرآن مجید کے اعراب لگانا جائز ہے اور قرآن اسی طرح پڑھنا فرض ہے جس طرح ان اجماعی اعراب کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔

۳۲: اس پر اجماع ہے کہ تقلید بے علمی (جہالت) ہے اور مقلّد عالم نہیں ہوتا۔

۳۳: اس پر اہلِ حق کا اجماع ہے کہ معیت والی آیات (مثلاً وَ ھُوَ مَعَکُمْ) سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم و قدرت ہے۔
تنبیہ: بعض متاخرین کا اس سے علیحدہ صفت مراد لینا باطل ہے۔

۳۴: اس پر اجماع ہے کہ جن احادیث میں سر اور داڑھی کے بالوں کو سرخ مہندی لگانے کا حکم آیا ہے، یہ حکم فرض و واجب نہیں بلکہ سنت و استحباب پر محمول ہے اور مہندی نہ لگانا یعنی سر اور داڑھی کے بال سفید چھوڑنا بھی جائز ہے۔

۳۵: ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اُس (بندے) کا ہاتھ ہو جاتا ہوں جسے وہ پھیلاتا ہے۔الخ
اس پر اجماع ہے کہ اس حدیث سے مراد حلولیت، اتحاد اور وحدت الوجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور رضا مندی شاملِ حال ہو جاتی ہے، لہٰذا حلولی صوفیوں کا اس حدیث سے استدلال باطل ہے۔

۳۶: اس پر اجماع ہے کہ بغلوں کے بال نوچنا فرض و واجب نہیں بلکہ مونڈنا بھی جائز ہے۔

۳۷: اس پر اجماع ہے کہ ایمان تین چیزوں کا نام ہے: دل میں یقین، زبان کے ساتھ اقرار اور اس پر عمل۔

۳۸: اس پر خیر القرون میں اجماع تھا کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا اور آپ پر موت طاری نہیں ہوئی۔

۳۹: اس پر اجماع ہے کہ عورت مردوں کی امام نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی مرد کسی عورت کے پیچھے نماز پڑھ لے تو یہ نماز فاسد(باطل) ہے۔

۴۰: اس پر اجماع ہے کہ قصداً قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

بہت سے ایسے مسائل ہیں جو قرآن و حدیث میں عموماً یا اشارتاً مذکور ہیں اور ان پر اجماع ہے۔مثلاً:

۱: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

۲: سیدہ مریم علیہا السلام کا کوئی شوہر نہیں تھا، بلکہ وہ کنواری تھیں۔

۳: ابن حزم کے زمانے میں اس پر اجماع تھا کہ عبد المصطفیٰ اور عبد النبی اور اس جیسے نام رکھنا جائز نہیں ہے۔

۴: مالِ تجارت پر ہر سال زکوٰۃ فرض ہے۔

۵: ہر سال دو سو درہم پر پانچ درہم زکوٰۃ فرض ہے۔

۶: قرآن مجید میں سورۃ التوبہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی یہ تحریر شائع ہوئی: ماہنامہ الحدیث شمارہ 91 صفحہ نمبر 46 تا 49

چڑیا کے دو بچے اور چیونٹیوں کی بستی

’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے رفیق سفر تھے پس ایک دفعہ آپ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ ہم نے وہ دونوں پکڑ لیے تو وہ چڑیا (بے قراری کی وجہ سے) پر پھڑپھڑانے لگی، اتنے میں نبی ﷺ تشریف لے آئے تو آپ نے فرمایا: اسے کس نے اس کے بچوں کی وجہ سے تکلیف پہنچائی ہے؟ اسے اس کا بچہ[یعنی دونوں بچے] لوٹا دو۔ اور آپ نے چیونٹیوں کی بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا پس آپ نے فرمایا: اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: آگ کے رب (یعنی اللہ تعالیٰ) کے سوا کسی شخص کے لیے زیبا (جائز) نہیں کہ وہ کسی کو آگ سے تکلیف پہنچائے۔

( سنن ابی داود: ۲۶۷۵، ج۲ص ۳۳۷ بتصرف یسیرطبع مکتبہ قدوسیہ لاہور)

[اس کی سند حسن ہے اور اسے حاکم و ذہبی دونوں نے صحیح کہا ہے۔ دیکھئے المستدرک وتلخیصہ ۴/۲۳۹ح ۷۵۹۹]

تحریر: ابو انس محمد سرور گوہر حفظہ اللہ

حوالہ: ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ نمبر 9

وعظ و نصیحت اور دعوت و تبلیغ کے بارے میں سنہری ہدایات

اور عکرمہ (رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ (سیدنا) ابن عباس (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: لوگوں کو ہر جمعے (یعنی ہر ہفتے) میں ایک دفعہ حدیث بیان کیا کر اور اگر تو اسے نہیں مانتا تو دو دفعہ بیان کر اور اگر تو بہت زیادہ کرنا چاہتا ہے تو تین دفعہ بیان کر اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتاہٹ میں مبتلا نہ کرنا، اور میں تجھے اس حال میں نہ پاؤں کہ تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ اپنی باتوں میں لگے ہوئے ہوں پھر تم انھیں وعظ سنانا شروع کردو، تاکہ ان کی باتیں ختم ہو جائیں، پھر وہ اُکتا جائیں، لیکن خاموش رہ، پھر اگر وہ تجھے حکم دیں تو اس حال میں انھیں حدیثیں سناؤ کہ وہ اس کا شوق رکھتے ہوں۔ دعا میں مسجع مقفیٰ ( یعنی شاعرانہ) الفاظ سے بچو، کیونکہ میں نے رسول اللہ a اور آپ کے صحابہ کو پایا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے تھے۔
اسے بخاری (6337) نے روایت کیا ہے۔

فقہ الحدیث: اس صحیح حدیث سے مستنبط شدہ چند تفقہات درج ذیل ہیں:

۱: اگر صحیح العقیدہ اور متقی لوگ تنگ ہوتے ہوں تو روزانہ وعظ نہیں کرنا چاہئے۔
۲: موقع محل کا خاص خیال رکھنا چاہئے اور جب لوہا گرم ہو تو اس پر کاری ضرب لگانی چاہئے۔
۳: دیوبندی تبلیغی جماعت کے غلط عقائد کے ساتھ ساتھ اُن کے مروجہ عمل میں بھی نظر ہے۔
۴: اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے انتہائی عاجزی وانکساری کا اظہار ہونا چاہئے اور ہر قسم کے تصنع اور تکلف سے اجتناب ضروری ہے۔
۵: اہلِ علم کو چاہئے کہ وہ لوگوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھیں۔
۶: علماء کو چاہئے کہ اپنے شاگردوں کی تربیت کا ہمیشہ بہت خیال رکھیں تاکہ وہ اُن کے حلقۂ درس سے ہیرے اور علم و عمل کے مینار بن کر نکلیں۔
۷: اگر کوئی شخص ٹیپ ریکارڈر پر تلاوت سن رہا ہے اور اب کسی ضرورت کی وجہ سے ٹیپ بند کرنا چاہتا ہے تو جب آیتِ کریمہ مکمل ختم ہو جائے تب ٹیپ بند کرے یعنی درمیان میں سے اسے کاٹ نہ دے۔
۸: عوام کو بھی چاہئے کہ جب انھیں کتاب و سنت کی دعوت دی جائے تو غور سے سنیں اور بغیر شرعی عذر کے بھاگنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ ان کے لئے اس دعوت میں دونوں جہانوں کی کامیابی اور خیر ہے۔
۹: مرجوح کے مقابلے میں راجح کو اختیار کرنا بہتر ہے۔
۱۰: جس طرح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی نصیحت میں حدیثِ رسول اور آثارِ سلف صالحین کا حوالہ دیا، اسی طرح اپنے بیان اور دعوت میں کتاب و سنت کے حوالوں اور آثارِ سلف صالحین پیش کرنے کا التزام کرنا چاہئے تاکہ عوام کے دلوں پر گہرا اثر ہو۔

حوالہ: ماہنامہ الحدیث شمارہ 79 صفحہ نمبر 4 تا 5

دانت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں

’’ہمارے دانت (Teeth) ہم پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔ یہ گوشت سے نکالے گئے ہیں، دانتوں کا سفید رنگ چہرے کے لئے سب سے زیادہ موزوں تھا ۔ سفید کے علاوہ کوئی اور رنگ جیسے سرخ یا سیاہ ہوتا تو انسان سے ڈر لگتا۔ دانتوں میں اللہ تعالیٰ کی بہت نشانیاں ہیں۔ دانتوں کا جبڑوں میں سے نکل کر بڑھنا پھر ایک خاص لمبائی پر آ کر رک جانا، اللہ جل جلالہ کی نشانی ہے۔ اگر یہ بڑھتے ہی رہتے تو ہماری زندگی عذاب بن جاتی۔ کیا ان کو ہم نے روکا ہے؟ پھر ان کی ساخت پر غور کریں ، کسی بھی چیز کو کھانے کے لئے پہلے کاٹنے کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سامنے والے دانت تیز اور نوکیلے بنائے تاکہ ہم خوراک کو آسانی سے کاٹ سکیں اور پچھلے دانت چوڑے بنائے تاکہ خوراک کو پیسا جا سکے ۔ کیا یہ سب کچھ ہم نے اپنی مرضی سے کیا ہے؟ ہر گز نہیں! اللہ جل جلالہ تک پہنچنے کے لئے تو ہمارے دانت ہی کافی ہیں جو زبانِ حال سے اپنے خالق کی صنعت گری کا اعلان کر رہے ہیں۔ کاش ہم ان دانتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے خالق کو بھی یاد رکھیں اور اس کا شکر ادا کریں۔

کیا منہ کا گوشت خود بخود دانتوں میں تبدیل ہو گیا ہے؟ دانتوں کے مادے (Material) پر غور کریں: اگر یہ نرم ہوتا تو چبانہ سکتا اور لوہے کی طرح سخت ہوتا تو ہماری زبان کو کاٹ دیتا۔ خالق نے ایسے مادے کا انتخاب کیا ہے جو مذکورہ کام کے لئے موزوں ترین تھا۔ عقل والوں کے لئے دانتوں میں قدرت کی بالکل واضح نشانیاں ہیں۔‘‘

(حافظ محمد جعفر حفظہ اللہ [ انجینئر] کی عظیم الشان کتاب: کائنات سے خالقِ کائنات تک[وجودِ خالق کے حیرت انگیز دلائل]تمام نسلِ انسانی کے لئے ص ۳۱)

 

حوالہ: ماہنامہ الحدیث شمارہ 78 صفحہ نمبر 5