گناہ کیا ہے؟ فما الإثم؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

جو چیز تیرے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہوجانا تجھے ناپسند ہو تو وہ گناہ ہے۔

دیکھئے صحیح مسلم، البروالصلۃ والآداب، باب تفسیر البر والاثم، حدیث:2553

مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 45:

ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا، ایمان کیا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تیری نیکی تجھے خوش کردے اور تیری برائی تجھے غمگین کردے تو تُو مومن ہے۔‘‘

اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! تو گناہ کیا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑدو۔‘‘

دیکھئے مسند أحمد،251/5، رقم:22512، حدیث ابی امامۃ الباہلی رضی اللہ عنہ

Advertisements

اللہ جہنم کی آگ کس آدمی پر حرام کر دیتا ہے؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص صدق دل سے یہ گواہی دیتا ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اﷲ کے رسول ہیں، تو اﷲ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے۔‘‘

دیکھئے صحیح البخاري:128، صحیح مسلم:148، مشکوۃ المصابیح 1/25

مکمل حدیث:

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سواری پر تھے جبکہ معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’معاذ!‘‘

انھوں نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں۔

آپ نے پھر فرمایا: ’’معاذ!‘‘

انھوں نے عرض کیا، اﷲ کے رسول! سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں۔

آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ’’معاذ !‘‘

انھوں نے عرض کیا، اﷲ کے رسول! سعادت مندی کے ساتھ حاضر ہوں۔

تین مرتبہ ایسے ہوا پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص صدق دل سے یہ گواہی دیتا ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدا اﷲ کے رسول ہیں، تو اﷲ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے۔‘‘

انھوں نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! کیا میں اس کے متعلق لوگوں کو نہ بتا دوں تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تب تو وہ توکل کر لیں گے۔‘‘

پھرمعاذ رضی اللہ عنہ نے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی موت کے قریب اس کے متعلق بتایا۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَمُعَاذٌ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ ‏”‏ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ ‏”‏‏.‏ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ‏.‏ قَالَ ‏”‏ يَا مُعَاذُ ‏”‏‏.‏ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ‏.‏ ثَلاَثًا‏.‏ قَالَ ‏”‏ مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلاَّ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ ‏”‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلاَ أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا قَالَ ‏”‏ إِذًا يَتَّكِلُوا ‏”‏‏.‏ وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا ‏.‏

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے

ابن عمررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘

بخاری:8، مسلم:113، نسائی:5051، ترمذی:2609، مشکوۃ المصابیح 1 / 4

مکمل حدیث:

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ‏”‏‏.‏

تمام اختلافات کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق کرنا چاہئے

امام سفیان بن عیینہ مکی رحمہ اللہ فرماتے تھے:

’’إنّ رسول اللہ ﷺ ھو المیزان الأکبر، فعلیہ تعرض الأشیاء، علٰی خُلُقہ وسیرتہ وھدیہ فما وافقھا فھو الحق وما خالفھا فھو الباطل‘‘

بے شک رسول اللہ ﷺ میزانِ اکبر ہیں۔ پس ہر چیز کو آپ پر پیش کیا جائے گا۔ آپ کے اخلاق پر، آپ کی سیرت پر اور آپ کے طریقے پر۔ پس جو کچھ اس کے مطابق ہے تو وہی حق ہے اور جو کچھ اس کے خلاف ہے تو وہی باطل ہے۔

(الجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع للخطیب ۱/ ۷۹ ح۸ وسندہ حسن)

کتاب و سنت کے خلاف ہر فیصلہ باطل اور مردود ہے۔

دین و دنیا میں سختی سے اجتناب کر کے آسانی والا راستہ اختیار کرنا چاہئے

سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے (اپنے شاگردوں سے) پوچھا:

کیا میں تمھیں ایسی بات نہ بتاؤں جو بہت سی نمازوں اور صدقے سے بہتر ہے؟

شاگردوں نے کہا: جی ہاں!

انھوں نے فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان صلح کرا دینا اور بغض و عداوت سے بچو کیونکہ یہ (نیکیوں کو) مونڈ (کرختم کر) دیتا ہے۔

(موطأ الامام مالک، روایۃ یحییٰ ۲/ ۹۰۴ ح ۱۷۴۱، وسندہ صحیح)

یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ نے فرمایا:

مجھے معلوم ہوا ہے کہ آدمی حسنِ اخلاق کی وجہ سے رات بھر عبادت کرنے والے اور دن بھر روزہ رکھنے والے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔

(الموطأ روایۃ یحییٰ ۲/ ۹۰۴ ح ۱۷۴۰، وسندہ صحیح)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا:

رسول اللہ ﷺ کو جن دو کاموں میں اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان کام ہی اختیار کیا بشرطیکہ وہ گناہ والا (ناجائز) کام نہ ہوتا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور رہنے والے ہوتے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی جان کے لئے کسی سے کبھی انتقام نہیں لیا اِلا یہ کہ اللہ کی مقرر کر دہ حرمت کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو اس صورت میں آپ اللہ کے لئے اس کا انتقام لیتے تھے۔

موطا روایۃ ابن القاسم: ۴۳، وأخرجہ البخاری (۳۵۶۰) ومسلم ( ۷۷/ ۲۳۲۷) من حدیث مالک بہ.

 

مساجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت

نبی کریم ﷺ کے ایک ارشادِ مبارک کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص گھر سے وضو کر کے فرض نماز پڑھنے کے لئے (مسجد کی طرف) نکلتا ہے تو اسے حج کا ثواب ملتا ہے اور جو شخص چاشت کی نماز پڑھنے کے لئے جاتا ہے تو اسے عمرے کا ثواب ملتا ہے۔ دیکھئے سنن ابی داود (۵۵۸) وسندہ حسن ، ومسند احمد(۵/ ۲۶۸) والحمدللہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے باوضوء ہوکر فرض نماز کی ادائیگی کے لیے آئے تو اس کا اجر احرام باندھے ہوئے حاجی کے اجر کے برابر ہو گا اور جو شخص صرف نماز چاشت پڑھنے کی غرض سے آیا تو اس کو عمرہ کرنے والے کے ثواب کے برابر ثواب حاصل ہو گا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز پڑھنا اور ان کے درمیانی (وقت) میں لغو یات سے بچا رہا تو (یہ عمل) علیین میں درج ہوتا ہے۔ [ابوداؤد: 558]

امام کو رکوع میں ملنے سے رکعت نہیں ہوتی

(امام کو) رکوع میں ملنے والے (مقتدی) کی رکعت نہیں ہوتی کیونکہ اس سے نماز کا ایک اہم رکن رہ جاتا ہے یعنی سورۂ فاتحہ۔ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

سورۂ فاتحہ پڑھے بغیر تم میں سے کوئی بھی رکوع نہ کرے۔

(جزء القراء ۃ للبخاری: ۱۳۳، وسندہ صحیح)

یعنی سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’لا یجزئک إلا أن تدرک الإمام قائمًا قبل أن ترکع‘‘

تیری رکعت اس وقت تک کافی نہیں ہوتی جب تک رکوع سے پہلے امام کو حالتِ قیام میں نہ پالے۔

(جزء القراء ۃ للبخاری : ۱۳۲، وسندہ حسن)