اختصارُ علومِ الحدیث کا ترجمہ اور تحقیق

مضمون: اختصار علوم الحدیث کا ترجمہ اور تحقیق
تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

قسط نمبر 1  قسط نمبر 2  قسط نمبر 3  قسط نمبر 4  قسط نمبر 5  قسط نمبر 6  قسط نمبر 7  قسط نمبر 8  قسط نمبر 9  قسط نمبر 10  قسط نمبر 11  قسط نمبر12

Advertisements

اثبات عذاب القبر

ترجمہ و تحقیق: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

تصنیف: امام ابو احمد بن الحسین البیہقی رحمہ اللہ

قسط نمبر 1  قسط نمبر 2  قسط نمبر 3  قسط نمبر 4  قسط نمبر 5  قسط نمبر 6  قسط نمبر7  قسط نمبر 8  قسط نمبر 9  قسط نمبر 10

انوار السنن فی تحقیق آثار السنن

[انوار السنن فی تحقیق آثار السنن، محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تصنیف لطیف ہے جو قسط وار ضرب حق سرگودھا میں چھپتی رہی ہے۔ شیخ محترم کی وفات کے بعد کافی لوگوں کا اصرار تھا کہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع کریں، لہٰذا قسط (18) سے اب باقاعدہ ماہنامہ اشاعۃ الحدیث حضرو میں، اس کی اشاعت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ وللہ الحمد]

anwaar ul sunnan

ماہِ صفر کے بعض مسائل

اس مضمون میں ماہِ صفر سے متعلق مختلف تحریریں اکٹھی کی گئی ہیں۔

ماہِ صفر (تحریر:حبیب الرحمن ہزاروی، ماہنامہ الحدیث شمارہ 112 صفحہ نمبر 46 تا 47)

ماہِ صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ اس مہینے کو صفر اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں شہر خالی ہو جاتے اور لوگ لڑائیوں کے لئے نکل پڑتے۔

ماہِ صفر اور بد شگونی

بعض کمزور عقیدے کے لوگ اس مہینے سے بد شگونی لیتے ہیں۔ بدشگونی لینے کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو خیر و برکت سے خالی سمجھنا، مثلاً کسی کام کی ابتداء نہ کرنا، کاروبار کا آغاز نہ کرنا، شادی بیاہ کرنے سے گریز کرنا، لڑکیوں کی رخصتی نہ کرنا۔ ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ ہر وہ کام جو اس مہینے میں شروع کیا جائے وہ منحوس اور خیر و برکت سے خالی ہوتا ہے۔

بدشگونی لینے کی وجوہات

بدشگونی لینے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا تھا کہ اس مہینے میں بلاؤں اوردیگر شر ورو فتن کا نزول ہوتا ہے اور اس کے بارے میں بعض موضوع احادیث کا سہارا لیتے ہیں۔ مثلاً دیکھئے موضوعات الکبریٰ (ح۸۸۶)

دوسری وجہ یہ ہے کہ دورِ جاہلیت میں ماہِ محرم میں جنگ و جدال کو حرام سمجھا جاتا تھا اور یہ حرمت قتال ماہِ صفر تک برقرار رہتی۔ لیکن جب صفر کا مہینہ آ جاتا تو جنگ و جدال دوبارہ شروع ہو جاتے، لہٰذا یہ مہینہ منحوس سمجھا جاتا ہے۔

ماہِ صفر سے بد شگونی لینے کی تردید

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((لا عدوٰی ولا طیرۃ ولا ھامۃ ولا صفر.))

کوئی بیماری متعدی نہیں، نہ بد شگونی کوئی چیز ہے۔ اُلو کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی صفر میں نحوست ہے۔ (صحیح بخاری:۵۷۵۷)

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((الطیرۃ شرک ، الطیرۃ شرک)) ثلاثًا ((و ما منا الا ولٰکن اللّٰہ یذھبہ بالتوکل)) بدشگونی لینا شرک ہے، بدشگونی لینا شرک ہے۔یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی وہم ہو ہی جاتا ہے مگر اللہ رب العزت اس کو توکل سے دور کر دیتا ہے۔ (سنن ابی داود:۳۹۱۰)

صفر کے بعض مسائل (تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، ماہنامہ الحدیث شمارہ 11 صفحہ نمبر 22)

۱: ایک صحیح حدیث میں آیاہے کہ : ’’ولا صفر‘‘ اور صفر ( کچھ) نہیں ہے۔ (صحیح بخاری:۵۷۰۷ وصحیح مسلم:۳۲۲۰)

اس حدیث کی تشریح میں محمد بن راشد المکحولی رحمہ اللہ (متوفی بعد ۲۶۰ھ) فرماتے ہیں : ’’سمعنا أن أھل الجاھلےۃ یستشئمون بصفر‘‘ ہم نے (اپنے استادوں سے) سنا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ صفر کو منحوس سمجھتے تھے۔ (سنن ابی داود:۳۹۱۶ وسندہ حسن)

’’أيلما یتوھمون أن فیہ تکثر الدواھي والفتن ‘‘ یعنی انہیں یہ وہم تھا کہ صفر میں مصیبتیں او ر فتنے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ (ارشاد الساری للقسطلانی ج۸ ص۳۷۴)

موجودہ دور میں بھی بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ صفر میں’’ ترہ تیزی‘‘ یعنی تیرہ تیزی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے برتن وغیرہ ٹوٹتے ہیں اور لوگوں کا نقصا ن ہوتاہے۔ حالانکہ یہ باطل عقیدہ بعینہ اہلِ جاہلیت کا عقیدہ ہے۔

۲: صفر کے آخر میں ’’چُوری‘‘کی رسم کا کوئی ثبوت کتاب و سنت میں نہیں ہے۔ ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کی کتاب’’تقویمِ تاریخی‘‘ سے صفر کے بارے میں چند معلومات درج ذیل ہیں:

27 صفر 1ھ ہجرت شروع

12 صفر 2ھ فرضیت جہاد

صفر 32ھ وفات عبد الرحمن بن عوف

صفر 35ھ وفات ابو طلحہ الالقاری

صفر 43ھ وفات محمد بن سلمہ

صفر 50ھ وفات صفیہ بن حي

صفر 52ھ وفات عمران بن حصین

صفر 56ھ وفات عبداللہ بن عمرو

صفر 66ھ وفات جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہم اجمعین

صفر 157ھ وفات امام اوزاعی رحمہ اللہ

صفر کا مہینہ (از افادات: مولانا ابو عبد الرحمٰن محمد ارشد کمال حفظہ اللہ، ماہنامہ الحدیث شمارہ 101 صفحہ نمبر 47)

۱: بعض لوگ صفر کے مہینے کو بد شگونیوں والا مہینہ سمجھتے ہیں، اس میں شادی بیاہ نہیں کرتے، طرح طرح کی توہمات میں مبتلا رہتے ہیں اور کاروبار وغیرہ کی ابتدا کرنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ((وَ لاَ صَفَرَ)) اورصفر(کی کوئی نحوست یا بیماری)نہیں۔ (صحیح بخاری:۵۷۵۷)

نیز دیکھئے مولانا محترم محمد ارشد کمال حفظہ اللہ کی عظیم ومفید کتاب: اسلامی مہینے اور ان کا تعارف (ص۸۰۔۸۲)

۲: بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صفر میں ’’تیرہ تیزی‘‘ہوتی ہے اور سخت مصیبتوں، بلاؤں اور بیماریوں کا نزول ہوتا ہے۔

یہ سمجھنا سراسر غلط، جہالت اور توہم پرستی کا شاخسانہ ہے۔

۳: بعض لوگ خاص طور پر صفر کے مہینے میں مکڑی کے جالے صاف کرتے ہیں، حالانکہ اس خاص کام کی کوئی دلیل نہیں اور صفائی تو ہر مہینے اورہر دن رات میں بہتر ہے۔

۴: بعض لوگ صفر کے آخری بدھ میں چُوری پکاتے ہیں اور قصے کہانیاں بیان کرتے ہیں، حا لانکہ شریعت میں اس بات کی کوئی اصل موجود نہیں۔

۵: یاد رہے کہ ماہِ صفر کی خاص فضیلت کے بارے میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں۔

۶: صفر کے مہینے میں مدائن فتح ہوا، جنگِ صفین ہوئی۔

اور درج ذیل ائمہ محدثین فوت ہوئے:

امام اوزاعی، اما م یحیٰ بن سعید القطان، امام علی(بن موسیٰ) الرضا، امام طبرانی، امام ابن شاہین، امام نسائی،محدث حاکم نیشاپوری،سلطان صلاح الدین ایوبی وغیرہم رحمہم اللہ

تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی مہینے اور ان کا تعارف (ص۹۱۔۹۵)

فضائلِ سلام (السلام علیکم کہنے کے فوائد)

سلام مسلمانوں کا امتیازی وصف اور وقار ہے۔ ابتدائے آفر ینش سے ’’سلام‘‘ کی جامعیت، افضلیت اور اہمیت مسلّم ہے، عہدِ نبوی ﷺ میں بھی ا س کی ترویج پر خوب زور دیا گیا ہے، اب تا قیامت یہ مسلمانوں کا شعارہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اے ایمان والو! تم اپنے گھر وں کے علاوہ دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہوجب تک تم اجازت نہ لے لو اور گھر والوں کو سلام نہ کر لو۔ (النور:۲۷)

دوسرے مقام پر فرمایا:

پس جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے گھر والوں پر سلام کرو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ (النور:۶۱)

آغازِ سلام

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان سے کہا: جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور وہ جو جواب دیں اسے غور سے سنو کیوں کہ وہی تیرا اور تیری اولاد کا سلام ہوگا۔

پس سیدنا آدم علیہ السلام نے جا کر کہا: ’’السلام علیکم‘‘ تو انہوں نے کہا:’’السلام علیک ورحمۃ اللہ‘‘ یعنی انھوں نے رحمۃ اللہ کااضافہ کردیا۔ (بخاری:۶۲۲۷، مسلم:۲۸۴۱)

تحفۂ سلام

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اور جب تمہیں (سلام کا) تحفہ دیا جائے تو تم اس سے بہتر تحفہ انھیں دو، یا وہی انھیں لوٹا دو۔

اس آیت کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے:

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ’’السلام علیکم ‘‘ کہا۔ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا بعد ازاں وہ بیٹھ گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا :دس نیکیاں ہو گئیں۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا اس نے ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ کہا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جوا ب دیا۔ چنانچہ وہ بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بیس نیکیاں ہو گئیں، بعد میں ایک اور شخص آیا اس نے’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ کہا۔ آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ وہ بیٹھ گیا آپ ﷺ نے فرمایا: تیس نیکیاں ہو گئیں۔ (سنن ابی داؤد:۵۱۹۵، ترمذی:۲۶۸۹ واسنادہ حسن)

بہترین اسلام

ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، أی الإسلام خیر؟ کہ اسلام میں بہتر بات کیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر بات یہ ہے کہ تو (بھوکے کو) کھانا کھلائے اور ہر واقف و ناواقف کو سلام کہے۔ (صحیح بخاری:۱۲،صحیح مسلم:۳۹)

محبت اور سلام

بغض و عناد، فتنہ و فساد کو کس طرح نبی رحمت ﷺ نے الفت و محبت، اخوت و بھائی چارے میں تبدیل کر دیا؟ وہ کون سا نسخۂ کیمیا ہے؟ جی ہاں، اسے نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے سنئے اور اپنی زندگیوں کو محبتوں سے بھر لیجئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جنت میں نہیں جاؤ گے یہاں تک کہ ایمان لے آؤ اور تم مومن نہیں ہو گے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اختیار کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگو گے (اور وہ یہ ہے کہ) تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ اور عام کرو۔ (صحیح مسلم:۵۴)

جنت اور سلام

سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے ہوئے سنا، اے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رشتے داروں اوراقربا کے حقوق ادا کرو اور اس وقت اٹھ کر نماز پڑھوجب لوگ سوئے ہوئے ہوں (یعنی تہجد) تو تم ’’جنت‘‘ میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔ (ترمذی:۲۴۸۵)

قربتِ الہی اور سلام 

سلام میں پہل کرنا قربتِ الہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سب سے زیادہ اللہ کے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سلا م کہنے میں پہل کرتے ہیں۔ (ابو داؤد:۵۱۹۷ وسندہ صحیح)

قارئین کرام: مذکورہ سطور میں انتہائی اختصار کے ساتھ سلام کی فضیلت رقم کی گئی ہے لہذا ہمیں بحیثیت مسلمان ’’سلام‘‘ کو عام کرنا چاہئے اور کیونکہ یہ قربت الہی کے حصول اور جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے اور غیر مسلموں کے ایجاد کر دہ : ہائے، بائے، ہیلواور نمستے وغیرہ الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ کافروں سے مشابہت کی ممانعت ہے اللہ ہمیں اعمالِ صالحہ کی توفیق دے۔ (آمین)

تحریر: فضیلۃ الشیخ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ

یہ مضمون شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 5 صفحہ نمبر 26 تا 27

سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بے شک اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے دونوں بھائیوں کے درمیان صلح کرادو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اُڑا ئے، ہوسکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں اور عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق نہ اُڑائیں، ہوسکتا کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ تم ایک دوسرے پر عیب نہ لگا ؤ اور نہ بُرے القاب سے کسی کو پکارو۔ ایمان لانے کے بعد فاسق ہونا بہت بُرا نام ہے اور جو لوگ تو بہ نہیں کریں گے تو وہی ظالم ہیں۔

اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے دُور رہو، بے شک بعض بدگمانیاں گناہ ہیں۔ ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو اورایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم تو اُسے بُرا سمجھتے ہو! اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تو بہ قبول کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور مختلف قومیں اور قبیلے بنا دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اللہ کے دربار میں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے، بے شک اللہ جاننے والا (اور ہر چیز سے) باخبر ہے۔ (سورۃ الحجرات:۱۰۔۱۳)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ظلم ہونے دیتا ہے۔ جو آدمی اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے گا تو اللہ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو کسی مسلمان (بھائی) کی مصیبت دُور کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کی مصیبتوں میں سے اُس کی مصیبت دُور کرے گا۔ جس نے اپنے بھائی کی پردہ پوشی کی تو اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (صحیح بخاری: ۲۴۴۲، صحیح مسلم: ۲۵۸۰)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور آپس میں حسدنہ کرو اور ایک دوسرے کی طرف (ناراضی سے) پیٹھ نہ پھیرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔ کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ بائیکاٹ کرے۔ (موطأ امام مالک روایۃ ابن القاسم بتحقیقی: ۴، صحیح بخاری:۶۰۷۶، صحیح مسلم: ۲۵۵۹)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے کے ساتھ محبت ، الفت اور رحم کرنے کی مثال ایک جسم کی طرح ہے، جب اس کا ایک عضو(حصہ) بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم اس کے لئے بخار اور بیداری کے ساتھ تکلیف میں رہتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۲۵۸۶ واللفظ لہ، صحیح بخاری: ۶۰۱۱)

ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اے (ساری دنیا کے) لوگو! سن لو تمھارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔سن لو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، سرخ کو کالے پر اور کالے کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں ہے سوائے تقویٰ کے، کیا میں نے نہیں پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ (ﷺ) نے پہنچا دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا دن (جمعہ) ہے۔ پھر آپ نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ لوگوں نے کہا: حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر آپ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: حرم ( مکہ) ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ نے تم پر تمھارے خون اور اموال حرام قرار دیئے ہیں۔ راوی نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے عزتوں کا بھی ذکر کیا تھا_ آج کے دن کی طرح اس (حُرمت والے) مہینے میں، اس (حرمت والے) شہر میں، کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ لوگو ں نے کہا: رسول اللہ (ﷺ) نے پہنچا دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: حاضر غائب تک پہنچا دے۔ (مسند احمد ۵/ ۴۱۱ ح ۲۳۴۸۹ وسندہ صحیح)

معلوم ہوا کہ دینِ اسلام میں عربی عجمی، کالے گورے، پٹھان پنجابی سندھی بلوچی، پاکستانی ہندوستانی اور ملکی غیر ملکی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سب اہلِ ایمان بھائی بھائی ہیں لیکن تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جو مسلمانوں کو فرقوں اور ٹکڑیوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔

تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

یہ مضمون شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 47 صفحہ نمبر 2 تا 3

اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی

وعن سفیان بن عبداللہ الثقفي ، قال: قلت: یارسول اللہ! قل لي في الإسلام قولاً لا أسال عنہ أحداً بعدک، وفي روایۃ: غیرک۔ قال: ’’قل آمنت باللہ، ثم استقم‘‘ رواہ مسلم

(سیدنا) سفیان بن عبداللہ الثقفی (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام میں ایسی (جامع) بات بتائیں کہ آپ کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ (ﷺ)نے فرمایا:کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر (اس پر) ثابت قدم ہو جاؤ۔ (مسلم: ۶۳/۳۸)

اس حدیث او ر دیگر دلائل سے ثابت ہے کہ دین اسلام کا اصل اور بنیادی رکن ایمان باللہ ہے۔ اللہ ہی معبود برحق، مشکل کشا، حاجت روا، فریاد رس، حاکم اعلی اور قانون ساز ہے۔ اس کی صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں، یہی وہ عقیدہ تو حید ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے۔

اس حدیث کی بعض سندوں میں یہ اضافہ ہے کہ:  سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بارے میں کس چیز کا آپ کو سب سے زیادہ خوف ہے؟ تو آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کرفرمایا: ’’یہ‘‘ یعنی اس زبان کا خوف سب سے زیادہ ہے۔ (سنن الترمذی: ۲۴۱۰ وقال: ھذا حدیث حسن صحیح، شعب الایمان للبیھقی: ۴۹۱۹ والزہری صرح بالسماع عندہ)

یاد رہے کہ توحید کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ آدمی ۔رسول اللہ ﷺ کی گستاخیاں شروع کر دے۔ آپ کے علم کو حیوانات ، پاگلوں اور بچوں کے علم سے تشبیہ دینے لگے۔ معاذ اللہ، ایساآدمی موحد نہیں بلکہ ملحد و زندیق ہے۔

توحید کا یہ لازمی نتیجہ اور رکن ہے کہ آدمی ۔رسول اللہ ﷺ پر بغیر افراط و تفریط کے صحیح ایمان لائے۔ آپ ﷺ سے والہانہ محبت اور پیار کرے۔ آپ کی گستاخی کے تصور اور خیال سے بھی بہت دور بھاگے۔ نہ تو آپ کو الٰہ معبود بنا دے اور نہ آپ کے مقام، فضیلت و درجات میں کسی قسم کی کمی کرے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ ﷺ کا مقام ہے۔ ہم سب آپ  ﷺ پر فدا ہوں۔ آمین

تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

اضواء المصابیح کا یہ مضمون شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 14 صفحہ نمبر 3 تا 4

تنبیہ: اصل مضمون طویل ہے۔ مکمل مضمون کے لئے یہاں کلک کریں۔