محمد الرسول اللہ ﷺ کا سایہ مبارک

صحیح سند سے ثابت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’ فبینما أنا یومًا بنصف النھار، إذا أنا بظلّ رسول اللّٰہ ﷺ مقبل۔‘‘

پھر ایک دن دوپہر کے وقت، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا سایہ آ رہا ہے۔

(مسند احمد ۶/ ۱۳۲ ح ۲۵۰۰۲ وسندہ صحیح)

تنبیہ: یہ دعویٰ کہ ’’نبی ﷺ کا سایہ نہیں تھا‘‘ درج ذیل دلائل میں سے کسی ایک دلیل سے بھی ثابت نہیں ہے:

1) قرآن مجید

2) صحیح و حسن لذاتہ حدیث

3) اجماع

4) اجتہاد مثلاً آثارِ صحابہ، آثارِ تابعین، آثارِ تبع تابعین، آثارِ ائمہ اربعہ اور آثارِ خیر القرون وغیرہ۔

ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام سے بھی یہ قول ثابت نہیں اور خیر القرون کے صدیوں بعد سیوطی، قسطلانی، زرقانی اور ملا علی قاری وغیرہم کے بے سند حوالہ جات کی کوئی علمی حیثیت نہیں ہے۔

آپ ﷺ کا سایہ نہ ہونے کے بارے میں قسطلانی، زرقانی، ابن سبع (؟) اور مناوی وغیرہم کی تمام روایات بے سند ہیں اور حکیم ترمذی کی طرف منسوب جس روایت کو سیوطی نے الخصائص الکبریٰ (۱/ ۶۸) میں ذکر کیا ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن قیس الزعفرانی راوی ہے۔ (الخصائص الکبریٰ ۱/ ۷۱)

عبد الرحمن بن قیس کے بارے میں امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’کان کذابًا‘‘ وہ کذاب (بہت جھوٹا) تھا۔ ( کتاب الجرح و التعدیل ۵/ ۲۷۸)

اس کا دوسرا راوی عبد الملک بن عبد اللہ بن الولید نامعلوم ہے۔

خلاصہ یہ کہ یہ روایت موضوع ہے۔

تفصیل کے لئے دیکھئے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تحقیق میں ’’شمائل ترمذی‘‘ حدیث 10 صفحہ 55 ’’شرح و فوائد‘‘۔

اس بارے میں ماہنامہ الحدیث شمارہ 40 صفحہ 10 پر توضیح الاحکام کا ایک سوال بھی شائع ہوا ہے:

سوال: کیاکسی حد یث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سایہ تھا؟ (عدنان الطاف، اسلام آباد)

فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا جواب:

جی ہاں! رسول اللہ ﷺ کے سایہ کا ثبوت کئی احادیثِ صحیحہ میں ہے اور اس کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔

طبقات ابن سعد (126/8،127، واللفظ لہ) اور مسند احمد (6/131، 132، 261) میں امام مسلم کی شرط پر شمیسہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

’’فبینما أنا یومًافي منصف النھا ر، إذا أنا بظل رسو ل اللہ ﷺ مقبلاً‘‘

دوپہر کا وقت تھاکہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا سایہ آرہا ہے۔

شمیسہ کوامام ابن معین نے ثقہ کہاہے۔ (تاریخ عثمان بن سعید الدارمی:418)

اور ان سے شعبہ نے بھی روایت کی ہے اور شعبہ (حتی الامکان) اپنے نزدیک عام طور پر صرف ثقہ سے روایت کرتے تھے۔

’’ کما ھوالأغلب ‘‘ [دیکھئے :تہذیب التہذیب  1 / 4،5]

لہٰذا یہ سند صحیح ہے۔

اسی طرح کی ایک طویل روایت سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔ جس کا ایک حصہ کچھ یوں ہے:

’’فلما کان شھر ربیع الأول ، دخل علیھا ، فرأت ظلہ ۔۔۔۔ ‘‘ إلخ

جب ربیع الاول کا مہینہ آیا تو آپ (ﷺ) اُن کے پاس تشریف لائے، انھوں نے آپ کا سایہ دیکھا ۔۔۔ الخ [مسند احمد338/6]

اس کی سند صحیح ہے اور جو اسے ضعیف کہتا ہے وہ خطا پر ہے کیونکہ شمیسہ کا ثقہ ہونا ثابت ہو چکا ہے۔

صحیح ابن خزیمہ (51/2ح 892) میں بھی صحیح سند کے ساتھ سیدناانس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’حتی رأیت ظلي وظلکم……‘‘ إلخ

یہاں تک کہ میں نے اپنا اورتمھارا سایہ دیکھا……الخ

اسے حاکم اور ذہبی دونوں نے صحیح کہاہے۔ [المستدرک للحاکم 456/4]

کسی صحیح یا حسن روایت سے یہ قطعاً ثابت نہیں کہ نبی ﷺ کاسایہ نہیں تھا۔ علامہ سیوطی نے خصائص کبریٰ میں جو روایت نقل کی ہے وہ اصول حد یث کی رُو سے باطل ہے۔

آئینہ دیوبندیت صفحہ 515:

6) عاشق الٰہی میرٹھی اور زکریا دیوبندی وغیرہ کا عقیدہ یہ تھا کہ نبی ﷺ کا سایہ نہیں تھا۔ (امداد السلوک ص 201، فضائل درود ص 115)

لیکن دوسری طرف نور محمد تونسوی دیوبندی نے عدم سایہ کی روایت کو ضعیف ثابت کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’بعض روایتوں سے حضور اکرم ﷺ کے سایہ کا ثبوت ملتا ہے‘‘ (حقیقی نظریات صحابہ ص 217)

اس کے بعد تونسوی صاحب نے تین احادیث نبی ﷺ کے سایہ کے متعلق نقل کی ہیں۔ دیکھئے حقیقی نظریات صحابہؓ (ص 217 تا 219)

سرفراز صفدر نے بھی سایہ کے متعلق دو احادیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ (دیکھئے تنقید متین ص 95)

Advertisements

ابو الطفیل عامر بن واثلہ، صحابہ کرام میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے

حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’کیونکہ ہم تمام اہلِ حدیث اس شخص کو قطعی طور پر جھوٹا سمجھتے ہیں جو ابو الطفیل عامر بن واثلہ (رضی اللہ عنہ) کے بعد صحابی ہونے کا دعویٰ کرے اور اللہ ہی حق کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔ ہم اس صحیح متواتر حدیث سے حجت پکڑتے ہیں جس میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: سو سال کے بعد۔ آپ کے قولِ مذکور کے وقت سے لے کر۔ روئے زمین پر کوئی شخص باقی نہیں رہے گا، جو کہ اس قول کے وقت موجود تھا۔‘‘

(دیکھئے المجمع الموسس للمعجم المفہرس 2 / 552 طبع دارالمعرفۃ بیروت لبنان)

سیدنا ابو الطفیل رضی اللہ عنہ کے بعد روئے زمین پر کسی صحابی کے زندہ رہنے کا کوئی ثبوت نہیں اور جن لوگوں نے اس دور کے بعد صحابی ہونے کا دعویٰ کیا، وہ جھوٹے تھے۔

صحیح یہ ہے کہ ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ 110ہجری میں فوت ہوئے اور تمام صحابۂ کرام میں آخری وفات پانے والے آپ ہی تھے۔ رضی اللہ عنہ

(دیکھئے تقریب التہذیب: 3111)

تفصیل کے لئے دیکھئے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تحقیق میں ’’شمائل ترمذی‘‘ حدیث 14 صفحہ 58 ’’شرح و فوائد‘‘۔

 

نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارک احادیث صحیحہ سے بطورخلاصہ پیش خدمت ہے

1) رنگ گورا سرخ و سفید، چمکدار اور انتہائی خوبصورت (شمائل ترمذی: ۱)

2) چاند جیسا چہرہ (شمائل: ۱۱)

ہلکی گولائی والا خوبصورت چہرہ (شمائل : ۴۱۲)

کشادہ اور کھلا چہرہ (شمائل : ۹)

3) سرمگیں آنکھیں (شمائل: ۴۱۲)

سیاہ اور بڑی آنکھیں جن کی سفیدی میں لمبے لمبے سرخ ڈورے تھے۔ (شمائل: ۹)

4) سر اور داڑھی کے کالے سیاہ اور گھنے بال، نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بالکل سیدھے اکڑے ہوئے۔ (شمائل: ۱)

آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ (شمائل: ۱)

سر کے بال (عام طور پر) بہت زیادہ اور کانوں کی لو تک لمبے تھے۔ (شمائل: ۳)

5) چوڑے اور مضبوط کندھے (شمائل: ۵۔۶)

6) مضبوط اور پُرگوشت ریشم جیسی نرم ہتھیلیاں (شمائل: ۵۔۶)

7) سینے اور ناف کے درمیان بالوں کی لمبی اور باریک لکیر (شمائل : ۵۔۶)

8) چلنے میں تیز رفتار (شمائل : ۵۔۶)

9) آپ کی کمرایسی تھی گویا ڈھلی ہوئی چاندی کا ٹکڑا۔ (مسند الحمیدی: ۸۶۵ بتحقیقی وسندہ حسن)

10) خوبصورت (ترشی ہوئی) ایڑیاں جن پر گوشت بہت کم تھا۔ (شمائل: ۹)

11) آپ نے سرخ خضاب یعنی مہندی لگائی۔ (صحیح بخاری: ۵۸۹۷۔ ۵۸۹۸)

12) آپ اپنی مونچھوں کے بال پست رکھتے تھے۔ (طبقات ابن سعد ۴۴۹/۱ وسندہ صحیح)

13) آپ کے نچلے ہونٹ اور ٹھوڑی کے درمیان تھوڑے سے بال سفید ہو گئے تھے۔(صحیح بخاری: ۳۵۴۵۔ ۳۵۴۶)

14) آپ کا پسینہ کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔ (دیکھئے صحیح بخاری: ۳۵۶۱، صحیح مسلم: ۲۳۲۹۔ ۲۳۳۰)

15) آپ ﷺ کی پشت پر دونوں کندھوں کے درمیان کبوتر کے انڈے جتنی ختمِ نبوت کی مہر تھی۔ (شمائل: ۱۶)

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 15 کا تفقہ صفحہ نمبر 59

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

شمائل ترمذی کی کھڑے ہو کر پانی پینے کے بارے میں احادیث

شمائل ترمذی کی حدیث: 205

حدثنا أحمد بن منیع: أنا ھشیم: أنا عاصم الأحول [و مغیرۃ] عن الشعبي عن ابن عباس رضی اللہ عنھما: أن النبي ﷺ شرب من زمزم وھو قائم۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے کھڑے ہو کر زمزم ( کا پانی) پیا۔

تحقیق و تخریج:    سندہ صحیح

صحیح بخاری:1637، صحیح مسلم:2027، سنن ترمذی:1882

شرح و فوائد:

1. زمزم کا پانی (زمزم کے کنویں کے پاس) کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔

2. ہمارے ممالک (بلادِ عجم) میں بعض لوگ جب جزیرۃ العرب سے زمزم لاتے ہیں تو کچھ لوگ اسے کھڑے ہو کر اور قبلے کی طرف رخ کر کے پیتے ہیں، لیکن اس کا کوئی ثبوت مجھے معلوم نہیں ہے۔

3. کھڑے ہو کر پینے سے ممانعت والی روایت زمزم اور مخصوص مواقع کے علاوہ اور وعیدپر محمول ہیں۔

4. بعض دوسرے مقامات پر بھی کھڑے ہو کر پینے کا ثبوت ہے، مثلاً وضو کا پانی اور مشک کا پانی وغیرہ۔

شمائل ترمذی کی حدیث: 206

حدثنا قتیبۃ:أنا محمد بن جعفر عن حسین المعلم عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ رضی اللہ عنہ قال: رأیت النبي ﷺ یشرب قائمًا و قاعدًا۔

عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہو کر اور بیٹھے ہوئے (دونوں حالتوں میں) پیتے ہوئے دیکھا۔

تحقیق و تخریج: سندہ حسن

سنن ترمذی (1883، وقال:حسن صحیح) مسند احمد (2 / 215)

جزء الالف دینار لاحمد بن جعفر بن حمدان القطیعی (144)

شمائل ترمذی کی حدیث: 207

حدثنا علي بن حجر:أنا ابن المبارک عن عاصم الأحول عن الشعبي عن ابن عباس رضی اللہ عنھما قال:سقیت النبي ﷺ من زمزم فشرب وھو قائم۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو زمزم میں سے پلایا اور آپ نے نوش فرمایا جبکہ آپ کھڑے تھے۔

تحقیق و تخریج: سندہ صحیح

شمائل ترمذی کی حدیث: 208

حدثنا أبو کریب محمد بن العلاء و محمد بن طریف الکوفي قالا: أنا ابن الفضیل عن الأعمش عن عبد الملک بن میسرۃ عن النزال بن سبرۃ قال: أي علي رضی اللہ عنہ بکوز من ماء وھو فی الرحبۃ فأخذ منہ کفًا فغسل یدیہ و مضمض و استنشق و مسح وجھہ و ذراعیہ و رأسہ ثم شرب وھو قائم ثم قال: ھذا وضوء من لم یحدث ھکذا رأیت رسول اللہ ﷺ فعل۔

نَزال بن سبرہ (رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس پانی کا ایک کوزہ لایا گیا اور آپ رحبہ (نامی ایک مقام) میں تھے، پھر آپ نے ایک چلو پانی لیا تو دونوں ہاتھ دھوئے، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، چہرہ تر کیا اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک ترکئے اور سر کا مسح کیا، پھر اس سے کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے جس کا وضو ٹوٹا نہیں (یعنی جو شخص وضو پر وضو کرنا چاہتا ہے) میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

تحقیق و تخریج: سندہ صحیح

صحیح بخاری (5615 – 5616)

شرح و فوائد:

1. وضو کرنے کے بعد وضو کے برتن میں سے بچا ہوا پانی پینا جائز ہے۔

2. کھڑے ہو کر پانی پینا منسوخ نہیں بلکہ جائز ہے۔ نیز دیکھئے حدیث سابق : 206

3. صحابہ کرام علانیہ سنت یعنی حدیث کی تعلیم دیتے تھے۔

4. وضو پر وضو ہو تو اچھی طرح دھونے کے بجائے اعضائے وضو کو تر کر دینا بھی جائز ہے۔

5. اعضائے وضو ایک ایک دفعہ دھونا بھی جائز ہے، جبکہ تین تین دفعہ دھونا بہتر ہے، جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 205 سے لے کر 208 تک۔

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

ألا کل شيء ما خلا اللہ باطل

ثنا محمد بن بشار: ثنا عبد الرحمن ابن مھدي: ثنا سفیان الثوري عن عبدالملک بن عمیر: ثنا أبو سلمۃ عن أبي ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ:

﴿إن أصدق کلمۃ قالھا الشاعر کلمۃ لبید: ألا کل شيء ما خلا اللہ باطل۔ و کاد أمیۃ بن أبي الصلت أن یسلم۔﴾

ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید کا قول ہے:

’’خبر دار سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔‘‘

اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت مسلمان ہو جاتا۔

شمائل ترمذی:241، صحیح بخاری:6489، صحیح مسلم:2256، سنن ترمذی:2849

شرح و فوائد:

1. لبید شاعر کے مذکورہ کلام کے دو معنی ہو سکتے ہیں:

اول: اللہ کے سوا ہر چیز کی عبادت باطل ہے۔

دوم: اللہ کے سوا ہر شے آخر فنا ہونے والی ہے اور یہی معنی یہاں راجح ہے۔

2. رسول اللہ ﷺکو اللہ نے اگرچہ اشعار نہیں سکھائے، جیسا کہ سورۃ یاسین کی آیت نمبر 69 سے ثابت ہے، لیکن آپ بعض اوقات کسی شعر کا ایک حصہ یا مقفیٰ و مسجیٰ کلام بھی بیان فرما دیتے تھے جو کہ اس آیت کے منافی نہیں، کیونکہ آپ شاعر نہیں تھے۔

3. عہدِ جاہلیت کے مشہور شاعر اور معلقات سبعہ (سات قصیدوں) میں سے ایک کے مصنف لبید بن ربیعہ بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ رضی اللہ عنہ

ان کے شعر مذکور کا بقیہ مصرعہ درج ذیل ہے:

و کُلُّ نَعِیْمٍ لا مَحالۃَ زائِل

اور ہر نعمت ضرور بالضرور ختم ہونے والی ہے۔

4. امیہ بن ابی الصلت بھی عہدِ جاہلیت کا مشہور شاعر تھا مگر اسلام و ایمان سے محروم رہا اور حالتِ کفر میں ہی مر گیا۔

شمائل ترمذی کی حدیث: 248

حدثنا علي بن حجر: أنا شریک عن عبد الملک بن عمیر عن أبي سلمۃ عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبيﷺ قال:

﴿أشعر کلمۃ تکلمت بھا العرب کلمۃ لبیدٍ: ألا کل شيءٍ ما خلا اللہ باطل۔﴾

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: عربوں میں سے شعریت کا سب سے زیادہ حامل مصرع لبید (بن ربیعہ) کا یہ مصرع ہے: خبردار سُن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔

تحقیق و تخریج: صحیح

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 241

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

مومن ہر حال میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کر رہا ہوتا ہے

حدثنا محمود بن غیلان : أنا أبو أحمد: أنا سفیان عن عطاء بن السائب عن عکرمۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، قال : أخذ النبيﷺ ابنۃ لہ تقضي فاحتضنھا فوضعھا بین یدیہ فماتت و ھي بین یدیہ و صاحت أم أیمن رضی اللہ عنہا، فقال [یعني النبيﷺ]:((أتبکین عند رسول اللّٰہ ﷺ؟)) فقالت: ألست أراک تبکي؟ قال: ((إني لست أبکي، إنما ھي رحمۃ، إن المؤمن بکل خیرٍ علی کل حالٍ، إن نفسہ تنزع من بین جنبیہ وھو یحمد اللہ تعالی ۔))

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی بیٹی (غالباً نواسی) کو پکڑکرگود میں ڈال لیا، وہ نزع کے عالم میں تھیں، پھر آپ نے اسے اپنے سامنے رکھ لیا تو وہ آپ کے سامنے فوت ہو گئیں اور ام ایمن رضی اللہ عنہا نے چیخ کر رونا شروع کر دیا تو آپ نے فرمایا: تم رسول اللہ ﷺکے سامنے رو رہی ہو؟اس نے کہا: کیا آپ بھی رو نہیں رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں (چیخ کر) رو نہیں رہا، یہ (آنسو) تو رحمت ہے، مومن ہر حال میں بہتر رہتا ہے، اس کی روح اس کے پہلو سے کھینچی جا رہی ہوتی ہے اور وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کر رہا ہوتا ہے۔

تحقیق و تخریج: حسن

شمائل ترمذی: 324 وسندہ حسن، سنن نسائی: 1844

شرح و فوائد:

1. کسی کی وفات اور مصیبت پر چیخ کر رونا منع ہے، آنسو ؤں پر مؤاخذہ نہیں، کیونکہ ان پر اختیار نہیں، نیز یہ رحمدلی کی علامت ہیں۔

2. رسول اللہ ﷺ مشکل کشا اور مختارِ کل نہیں ہیں۔

3. اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے محبت کرنا فطرتِ انسانی میں داخل ہے۔

4. مصیبت ہو یا خوشی، مومن ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہی بیان کرتا ہے۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 324

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

 

پس کہو: آپ ﷺ اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں

[ثنا أحمد بن منیع] و سعید بن عبد الرحمن المخزومي وغیر واحد، قالوا: ثنا سفیان [بن عیینۃ عن الزھري] عن عبید اللہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ [قال، قال رسول اللہ ﷺ:] ((لا تطروني کما أطرت النصاری [عیسی] ابن مریم، إنما أنا عبد[اللہ] فقولوا: [عبداللہ و رسولہ]))

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جس طرح نصرانیوں نے عیسی بن مریم (علیہما السلام) کے بارے میں غلو کیا تو تم میرے بارے میں ایسا غلو نہ کرو، میں تو اللہ کا بندہ ہوں، پس کہو: (آپ) اللہ کے بندے اور اُس کے رسول (ہیں)۔

صحیح بخاری:3445، شمائل ترمذی: 329

تحقیق وتخریج: صحیح

شرح و فوائد:

1. دین میں غلو کرنا اور رسول اللہ ﷺ کی شان بڑھانے کے لئے غیر شرعی تجاوز، مبالغہ اور زیادتی کرنا جائز نہیں ہے اور اسی طرح آپ ﷺکی شان گھٹانا بھی حرام اور کفر ہے۔

2. رسول اللہ ﷺ مخلوق میں سب سے اعلیٰ ہونے کی باوجود سب سے زیادہ عاجزی اور تواضع فرماتے تھے اور ہمارے لئے آپ کی سیرت مبارکہ میں اسوۂ حسنہ ہے۔

3. بعض لوگ نبی کریم ﷺ کی شان میں غلو کرتے ہوئے آپ کو مشکل کشا، حاجت روا، مختارِ کل اور کل ما کان و ما یکون کا علم غیب جاننے والا کہتے ہیں اور یہ تمام امور مذکورہ حدیث و دیگر دلائل کی رُو سے ممنوع و حرام ہیں۔

اِس بلاگ پوسٹ کی اصل کتاب کا حوالہ: شمائل ترمذی حدیث نمبر 329

تحقیق و تخریج و شرح و فوائد: شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ