فضائلِ سلام (السلام علیکم کہنے کے فوائد)

سلام مسلمانوں کا امتیازی وصف اور وقار ہے۔ ابتدائے آفر ینش سے ’’سلام‘‘ کی جامعیت، افضلیت اور اہمیت مسلّم ہے، عہدِ نبوی ﷺ میں بھی ا س کی ترویج پر خوب زور دیا گیا ہے، اب تا قیامت یہ مسلمانوں کا شعارہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اے ایمان والو! تم اپنے گھر وں کے علاوہ دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہوجب تک تم اجازت نہ لے لو اور گھر والوں کو سلام نہ کر لو۔ (النور:۲۷)

دوسرے مقام پر فرمایا:

پس جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے گھر والوں پر سلام کرو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ (النور:۶۱)

آغازِ سلام

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان سے کہا: جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور وہ جو جواب دیں اسے غور سے سنو کیوں کہ وہی تیرا اور تیری اولاد کا سلام ہوگا۔

پس سیدنا آدم علیہ السلام نے جا کر کہا: ’’السلام علیکم‘‘ تو انہوں نے کہا:’’السلام علیک ورحمۃ اللہ‘‘ یعنی انھوں نے رحمۃ اللہ کااضافہ کردیا۔ (بخاری:۶۲۲۷، مسلم:۲۸۴۱)

تحفۂ سلام

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اور جب تمہیں (سلام کا) تحفہ دیا جائے تو تم اس سے بہتر تحفہ انھیں دو، یا وہی انھیں لوٹا دو۔

اس آیت کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے:

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ’’السلام علیکم ‘‘ کہا۔ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا بعد ازاں وہ بیٹھ گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا :دس نیکیاں ہو گئیں۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا اس نے ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ کہا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جوا ب دیا۔ چنانچہ وہ بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بیس نیکیاں ہو گئیں، بعد میں ایک اور شخص آیا اس نے’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ کہا۔ آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ وہ بیٹھ گیا آپ ﷺ نے فرمایا: تیس نیکیاں ہو گئیں۔ (سنن ابی داؤد:۵۱۹۵، ترمذی:۲۶۸۹ واسنادہ حسن)

بہترین اسلام

ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، أی الإسلام خیر؟ کہ اسلام میں بہتر بات کیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر بات یہ ہے کہ تو (بھوکے کو) کھانا کھلائے اور ہر واقف و ناواقف کو سلام کہے۔ (صحیح بخاری:۱۲،صحیح مسلم:۳۹)

محبت اور سلام

بغض و عناد، فتنہ و فساد کو کس طرح نبی رحمت ﷺ نے الفت و محبت، اخوت و بھائی چارے میں تبدیل کر دیا؟ وہ کون سا نسخۂ کیمیا ہے؟ جی ہاں، اسے نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے سنئے اور اپنی زندگیوں کو محبتوں سے بھر لیجئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جنت میں نہیں جاؤ گے یہاں تک کہ ایمان لے آؤ اور تم مومن نہیں ہو گے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اختیار کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگو گے (اور وہ یہ ہے کہ) تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ اور عام کرو۔ (صحیح مسلم:۵۴)

جنت اور سلام

سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے ہوئے سنا، اے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رشتے داروں اوراقربا کے حقوق ادا کرو اور اس وقت اٹھ کر نماز پڑھوجب لوگ سوئے ہوئے ہوں (یعنی تہجد) تو تم ’’جنت‘‘ میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔ (ترمذی:۲۴۸۵)

قربتِ الہی اور سلام 

سلام میں پہل کرنا قربتِ الہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سب سے زیادہ اللہ کے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سلا م کہنے میں پہل کرتے ہیں۔ (ابو داؤد:۵۱۹۷ وسندہ صحیح)

قارئین کرام: مذکورہ سطور میں انتہائی اختصار کے ساتھ سلام کی فضیلت رقم کی گئی ہے لہذا ہمیں بحیثیت مسلمان ’’سلام‘‘ کو عام کرنا چاہئے اور کیونکہ یہ قربت الہی کے حصول اور جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے اور غیر مسلموں کے ایجاد کر دہ : ہائے، بائے، ہیلواور نمستے وغیرہ الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ کافروں سے مشابہت کی ممانعت ہے اللہ ہمیں اعمالِ صالحہ کی توفیق دے۔ (آمین)

تحریر: فضیلۃ الشیخ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ

یہ مضمون شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 5 صفحہ نمبر 26 تا 27

Advertisements

اظہار خوشی مگر کیسے؟

 

غم و خوشی، رونا و ہنسنا، مشکلات و راحت اور مختلف نشیب وفراز، زندگی کا حصہ ہیں،لیکن انسان فطرتی طور پر خوشی حاصل کرنے میں جلد باز واقع ہوا ہے ا وریہی عجلت پسندی اسے دنیا ومافیھا سے بے پروا کر دیتی ہے حالانکہ ’’دین اسلام‘‘ مکمل ضابطہ حیا ت ہے یہ دین جہاں حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی کا پابند بناتا ہے وہاں اظہار خوشی میں بھی ادخلو فی السلم کآفۃکا درس دیتا ہے۔

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ کو جب (بھی) مسرور کن معاملہ پیش آتا یا آپ (ﷺ) کو، کوئی خوش خبری دی جاتی تو فوراً اللہ تعالی کا بجالاتے ہوئے سجد ہ ریز ہو جاتے۔
(ابو داؤد: ۲۷۷۴، ابن ماجہ: ۱۳۹۴، ترمذی: ۵۷۸ وقال: ’’حسن غریب‘‘)

حقیقی مومن خوش کن حالات میں ایمان کا سودا کرتا ہے نہ غم کے موقع پر ہی ڈگمگاہٹ ( کمزوری) کا شکار ہوتاہے۔

ارشاد نبوی ﷺ ہے:
’’مومن آدمی کا بھی عجیب حال ہے کہ اس کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے اور یہ بات کسی کو حاصل نہیں سوائے اس مومن آدمی کے کہ اگر اسے کوئی خوشی پہنچی اور شکر ادا کیا تو بھی ثواب ہے اگر نقصان پہنچا اور صبر کیا تو بھی ثواب ہے۔‘‘ (صحیح مسلم : ۲۹۹۹)

یہی طرز عمل ہمارے اسلاف کا تھا۔

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قبولیتِ توبہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے خوشخبری کا ذکر کرتے ہیں کہ: ’’میں نے ایک پکارنے والے کی آوازسنی، جبل سلع پر چڑھ کر کوئی بلند آواز سے کہہ رہا تھا اے کعب بن مالک! تمہیں بشارت ہو یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا‘‘ (بخاری : ۴۴۱۸)

امام نووی فرماتے ہیں : یہ حدیث دلیل ہے کہ ہر نعمت کے حصول یا کسی مشکل سے چھٹکاے کے بعد سجدہ شکر مستحب ہے۔ (صحیح مسلم مع شرح نووی ۱۷ / ۹۰)

قارئین کرام : خوشی آزادی و شادی کی ہو یا میلاد النبی ﷺ کی مروجہ طریقہ کے مطابق اس کا جشن منانا قرآن وحدیث اور اسلامی شعار کے منافی ہے ۔اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

تحریر: الشیخ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ

یہ مضمون شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 4 صفحہ نمبر 4

 

قرآن مجید پر اعتراضات اور ان کی حقیقت

مضمون: قرآن مجید پر اعتراضات اور ان کی حقیقت (صفحات: 10)
تحریر: حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ
شائع ہوا: ماہنامہ اشاعۃ الحدیث شمارہ 133 صفحہ نمبر 38
مکمل مضمون آن لائن پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ishaatulhadith.png
ماہنامہ اشاعۃ الحدیث کی مکمل لسٹ یہاں پر دیکھیں۔

تکبیراتِ عیدالاضحیٰ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ 9 ذوالحجہ کے دن نمازِ فجر سے لے کر 13 ذوالحجہ کی نمازِ عصر تک تکبیرات پڑھتے تھے۔

ishaatulhadith

ماہنامہ اشاعۃ الحدیث کی مکمل لسٹ یہاں پر دیکھیں۔